لہٰذا ؔ قرآنی عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا واقعی اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اسی کے وجود کے ساتھ بقا ہے اور اس کا وجود ہریک چیز کے لئے بمنزلہ جان ہے اور اگر اس کا عدم فرض کرلیں تو ساتھ ہی ہریک چیز کا عدم ہوگا۔ غرض ہریک وجود کے بقا اور قیام کے لئے اس کی معیت لازم ہے لیکن آریوں اور عیسائیوں کا یہ اعتقاد نہیں ہے آریوں کا اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ارواح اور اجسام کا خالق نہیں جانتے اور ہریک چیز سے ایسا تعلق اس کا نہیں مانتے جس سے ثابت ہو کہ ہریک چیز اسی کی قدت اور ارادہ کا نتیجہ ہے اور اس کی مشیت کے لئے بطور سایہ کے ہے بلکہ ہریک چیز کا وجود ایسے طور سے مستقل خیال کرتے ہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ ان کے زعم میں تمام چیزیں اپنے وجود میں مستقل طور پر قدیم اور انادی ہیں پس جبکہ یہ تمام موجود چیزیں ان کے خیال میں خدا تعالیٰ کی قدرت سے نکل کر قدرت کے ساتھ قائم نہیں تو بلاشبہ یہ سب چیزیں ہندوؤں کے پرمیشر سے ایسی بے تعلق ہیں کہ اگر ان کے پرمیشر کا مرنا بھی فرض کرلیں تب بھی روحوں اور جسموں کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ ان کا پرمیشر صرف معمار کی طرح ہے اور جس طرح اینٹ اور گارا معمار کی ذاتی قدرت کے ساتھ قائم نہیں تا ہریک حال میں اس کے وجود کا تابع ہو۔ یہی حال ہندوؤں کے پرمیشر کی چیزوں کا ہے سو جیسا کہ معمار کے مرجانے سے ضروری نہیں ہوتا کہ جس قدر اس نے اپنی عمر میں عمارتیں بنائی ہوں وہ ساتھ ہی گر جائیں ایسا ہی یہ بھی ضرور نہیں کہ ہندوؤں کے پرمیشر کے مرجانے سے کچھ بھی صدمہ دوسری چیزوں کو پہنچے کیونکہ وہ انکا قیوم نہیں* اگر قیوم ہوتا تو ضرور ان کا خالق بھی ہوتا۔ کیونکہ جو چیزیں پیدا ہونے میں خدا کی قوت کی محتاج نہیں وہ قائم رہنے میں بھی اس کی قوت کے سہارے کی حاجت نہیں رکھتیں اور عیسائیوں کے اعتقاد کی رو سے بھی ان کا مجسم خدا قیوم الاشیاء نہیں ہو سکتا کیونکہ قیوم ہونے کیلئے معیت ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ عیسائیوں کا خدا یسوع اب زمین پر نہیں کیونکہ اگر زمین پر ہوتا تو ضرور لوگوں کو نظر آتا جیسا کہ اس زمانہ میں نظر آتا تھا جبکہ پلاطوس کے عہد میں اس کے ملک میں موجود تھا پس جبکہ وہ زمین پر موجود نہیں تو زمین کے لوگوں کا