شریف آدمی بھی ہیں جو عزت اور غیرت اور حیا رکھتے ہیں اس لئے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس رسالہ سے بہت نفع اٹھائیں گے بلکہ ایسے تمام لوگ جو اس مسئلہ کی تہ تک پہنچے ہوئے ہیں وہ ہرگز ان نادانوں سے اتفاق نہیں کریں گے جو ایک مشہور عقیدہ کو چھپانا چاہتے ہیں اکثر شریف آریہ ہرگز نہیں چاہتے کہ اس مسئلہ کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ ان کی انسانی حمیت اور غیرت کسی طرح اس قابل شرم عقیدہ کو قبول نہیں کر سکتی بھلا کون اس دیوثی کو پسند کرے کہ زندہ اور جیتا جاگتا ہو کر اپنی نیک چلن عورت کو جو عین نکاح کے قید میں ہے اپنے ہاتھ سے دوسرے سے ہم بستر کراوے اورؔ آپ باہر کسی چٹائی پر لیٹا رہے یہی تو بات ہے کہ قادیان کے غیرت مند آریہ وید کی اس ہدایت کو نہیں مانتے ہاں یہ ان کی نادانی ہے کہ جب ان کے وید کی اس تعلیم کو جو نیوگ ہے قابل اعتراض ٹھہرایا جائے تو وہ طیش میں آکر مسلمانوں کو طلاق کے مسئلہ سے الزام دینا چاہتے ہیں حالانکہ ایک مسلمان ہرگز اس طعنہ سے شرمندہ نہیں ہوگا کہ اس نے ایک نابکار عورت کو اس کی کسی بدعملی اور بدچلنی اور ناپارسائی کی وجہ سے طلاق دے دی ہے اوراس مطلقہ ناپاک سیرت کو کوئی اور شخص نکاح میں لایا ہے بلکہ خوش ہوگا کہ اس نے ایک سڑے ہوئے اور متعفن عضو کو اپنے صحیح و سالم وجود میں سے کاٹ کر الگ پھینک دیا اور اس کی زہرناک ہمسائیگی سے نجات پائی۔ اگر کسی ہندو کی نظر میں ضرورتوں کے وقت میں بھی طلاق قابل اعتراض ہے تو یہ ایک دوسرا اعتراض ہندو مذہب پر ہوگا کہ ایک ہندو جس کی عورت زناکاری کی حالت میں بھی ہو تو چاہئے کہ ہندو اس گندے عضو کو اپنے وجود میں سے نہ کاٹے اور اس بات پر راضی رہے کہ اس کے گھر میں زنا ہوتا رہے اور ایک عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر اسکے سامنے اوروں سے بدکاری میں زندگی بسر کرے بیشک وید کی تعلیم یہی ہے مگر اسلامی تعلیم اس کے برخلاف ہے اور ایک مسلمان کی غیرت اور عفت ہرگز اس بات کو روا نہیں رکھے گی کہ ایک پلید چلن عورت کو اپنا جوڑا قرار دے غرض غیرت مندوں کے نزدیک ضرورتوں کے وقت طلاق ہرگز قابل اعتراض نہیں بلکہ اعتراض اس حالت میں ہوگا کہ ایک عورت کو بدکار پا کر پھر نکاح کا تعلق اس سے قائم رکھے اور دیوث بن کر گذارہ کرتا رہے۔ پس ایک مسلمان ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہزار مرتبہ اقرار کر سکتا ہے کہ اس نے فلاں عورت کو کسی مکروہ حالت اور ناپاکی میں پاکر ایک متعفن عضو کی طرح اپنے