انگلیوؔ ں پر گن سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کم سرمایہ پرمیشر ہے کہ اس کی تمام قدرتوں کی حد معلوم ہو چکی ہے اور اگر اس
کی قدرتوں کی بہت ہی تعریف کی جائے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے جیسی قدیم چیزوں کو معماروں کی طرح جوڑنا جانتا ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اپنے گھر سے کونسی چیز
ڈالتاہے تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں۔ غرض اس کی طاقت کا انتہائی مرتبہ صرف اس حد تک ہے کہ وہ موجودہ روحوں اور اجسام صغار کو جو قدیم اور اس کے وجود کی طرح انادی
اور واجب الوجود ہیں جن کی پیدائش پر اس کے وجود کا کچھ بھی اثر نہیں باہم پیوند کر دیتا ہے لیکن اس بات پر دلیل قائم ہونا مشکل ہے کہ کیوں ان قدیم چیزوں کو ایسے پرمیشر کی حاجت ہے جبکہ کل
چیزیں خودبخود ہیں ان کے تمام قویٰ بھی خودبخود ہیں اور ان میں باہم ملنے کی استعداد بھی خودبخود ہے اور ان میں قوت جذب اور کشش بھی قدیم سے ہے اور ان کے تمام خواص جو ترکیب کے بعد بھی
ظاہر ہوتے ہیں خود بخود ہیں تو پھر سمجھ نہیں آتا کہ کس دلیل سے اس ناقص اور ناطاقت پرمیشر کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور اس میں اور اس کے غیر میں مابہ الامتیاز بجز زیادہ ہوشیار اور ذہین
ہونے کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آریوں کا پرمیشر ان بے انتہا قدرتوں سے ناکام ہے جو الوہیت کے کمال کے متعلق ہیں اور یہ اس فرضی پرمیشر کی بدقسمتی ہے کہ اس کو وہ کمال
تام میسر نہ ہو سکا جو الوہیت کا پورا جلال چمکنے کیلئے ضروری ہے اور دوسری بدنصیبی یہ ہے کہ بجز چند ورق وید کے قانون قدرت کی رو سے اس کے شناخت کرنے کی کوئی بھی راہ نہیں
کیونکہ اگر یہی بات صحیح ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام معہ اپنی تمام قوتوں اور کششوں اور خاصیتوں اور عقلوں اور ادراکوں اور شعوروں کے خودبخود ہیں تو پھر ایک عقل سلیم ان چیزوں کے
جوڑنے کیلئے کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں سمجھتی وجہ یہ کہ اس صورت میں اس سوال کا جواب دینا امکان سے خارج ہے کہ جو چیزیں اپنے وجود کی قدیم سے آپ ہی خدا ہیں اور اپنے
اندر وہ تمام قوتیں بھی رکھتی ہیں جو ان کے باہم جوڑنے کیلئے ضرور ی ہیں تو پھر جس حالت میں ان کو اپنے وجود کیلئے پرمیشر کی حاجت نہیں ہوئی اور اپنی