قوتوؔ ں اور خاصیتوں میں کسی بنانے والے کی محتاج نہیں ٹھہریں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو باہم تعلق کیلئے کسی
دوسرے جوڑنے والے کی حاجت پڑگئی حالانکہ روحوں کے ساتھ ان کے قویٰ کا جوڑنا اور ذرات اجسام کے ساتھ ان کی قوتوں کا جوڑنا یہ بھی ایک جوڑنے کی قسم ہے پس اس سے تو یہ ثابت ہو گیاہے
کہ ان قدیم چیزوں کو جیسا کہ اپنے وجود کیلئے کسی خالق کی ضرورت نہیں اور اپنی قوتوں کیلئے کسی موجد کی حاجت نہیں ایسا ہی باہم جوڑ پیدا ہونے کے لئے کسی صانع کی حاجت نہیں اور یہ
نہایت بیوقوفی ہوگی کہ جب اول خود اپنی ہی زبان سے ان چیزوں کی نسبت مان لیں کہ وہ اپنے وجود اور اپنی قوّ توں اور اپنے باہم جوڑ کیلئے دوسرے کے محتاج نہیں تو پھر اسی منہ سے یہ بھی کہیں
کہ بعض چیزوں کے جوڑنے کیلئے ضرور کسی دوسرے کی حاجت ہے پس یہ تو ایک دعویٰ ہوگا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ غرض اس عقیدہ کی رو سے پرمیشر کا وجود ہی ثابت کرنا مشکل ہوگا
سو اس انسان سے زیادہ کوئی بدقسمت نہیں جو ایسے پرمیشر پر بھروسہ رکھتا ہے جس کو اپنا وجود ثابت کرنے کیلئے بھی بباعث کمی قدرت کے کوئی عمدہ اسباب میسر نہیں آ سکے۔ یہ تو ہندوؤں
کے پرمیشر میں خدائی کی طاقتیں ہیں اور اخلاقی طاقتوں کا یہ حال ہے کہ وہ انسانوں کی طاقتوں سے بھی کچھ گری ہوئی معلوم ہوتی ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نیک دل انسان بارہا ایسے
قصورواروں کے قصور بخش دیتا ہے جو عجز اور نیاز کے ساتھ اس سے معافی چاہتے ہیں اور بارہا اپنے کرم نفس کی خاصیت سے ایسے لوگوں پر احسان کرتا ہے جن کا کچھ بھی حق نہیں ہوتا لیکن
آریہ لوگ اپنے پرمیشر کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں قسموں کے خلقوں سے بھی بے نصیب ہے اور ان کے نزدیک ہریک گناہ کروڑ ہا جونوں کا موجب ہے اور جب تک کوئی گنہگار بے انتہا
جونوں میں پڑ کر پوری سزا نہ پالے تب تک کوئی صورتَ مخلصی نہیں اور ان کے عقیدہ کی رو سے یہ امید بالکل بے سود ہے کہ انسان کی توبہ اور پشیمانی اور استغفار اس کے دوسرے جنم میں
پڑنے سے روک دے گی یا حق کی طرف رجوع کرنا گذشتہ ناحق کے اقوال و اعمال کی سزا سے اُسے