اسؔ زمانہ میں جبکہ حق اور باطل کے معلوم کرنے کیلئے بہت سے وسائل پیدا ہوگئے ہیں ہمارے ملک میں تین بڑے مذہب
بالمقابل کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ان مذاہب ثلٰثہ میں سے ہریک صاحب مذہب کو دعویٰ ہے کہ میرا ہی مذہب حق اور درست ہے اور تعجب کہ کسی کی زبان بھی اس بات کے انکار کی
طرف مائل نہیں ہوتی کہ اس کا مذہب سچائی کے اصولوں پر مبنی نہیں۔ لیکن میں اس امر کو باور نہیں کر سکتا کہ جیسا کہ ہمارے مخالفوں کی زبانوں کا دعویٰ ہے ایسا ہی ایک سیکنڈ کیلئے ان کے دل
بھی ان کی زبانوں سے اتفاق کر سکتے ہیں۔ سچے مذہب کی یہ ایک بڑی نشانی ہے کہ قبل اس کے جو ہم اس کی سچائی کے دلائل بیان کریں خود وہ اپنی ذات میں ہی ایسا روشن اور درخشاں ہوتا ہے کہ
اگر دوسرے مذاہب اس کے مقابل پر رکھے جائیں تو وہ سب تاریکی میں پڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور اس دلیل کو اس وقت ایک دانشمند انسان صفائی سے سمجھ سکتا ہے جبکہ ہریک مذہب کو اس کے
دلائل مخترعہ سے علیحدہ کر کے صرف اس کے اصل الاصول پر نظر کرے یعنی ان مذاہب کے طریق خدا شناسی کو فقط ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر جانچے اور کسی مذہب کے عقیدہ
خداشناسی پر بیرونی دلائل کا حاشیہ نہ چڑھاوے بلکہ مجرد عن الدلائل کر کے اور ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے مقابل پر رکھ کر پرکھے اور سوچے کہ کس مذہب میں ذاتی سچائی کی چمک پائی
جاتی ہے اور کس میں یہ خاصیت ہے کہ فقط اس کے طریق خداشناسی پر ہی نظر ڈالنا دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے مثلاً وہ تین مذہب جن کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں یہ ہیں آر۱یہ۔ عیسا۲ ئی۔ اسلا۳م
اگر ہم ان تینوں کی اصل تصویر دکھلانا چاہیں تو بتفصیل ذیل ہے۔
آریہ مذہب کا ایک ایسا خدا ہے جس کی خدائی اپنی ذاتی قوت اور قدرت پر چلنا غیر ممکن ہے اور اس کی تمام امیدیں ایسے وجودوں
پر لگی ہوئی ہیں جو اس کے ہاتھ سے پیدا نہیں ہوئے حقیقی خدا کی قدرتوں کا انتہا معلوم کرنا انسان کا کام نہیں مگر آریوں کے پرمیشر کی قدرت