کہہؔ سکتے ہیں کہ جب یہ تمام قوتیں اس کی خدا تعالیٰ کے راہ میں لگ جائیں اور اس کے زیر حکم واجب طور پر اپنے اپنے محل پر مستعمل ہوں اور کوئی قوت بھی اپنی خود روی سے نہ چلے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ نئی زندگی کامل تبدیلی سے ملتی ہے اور کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی تمام قوتیں جو اس کی انسانیت کا نچوڑ اور لب لباب ہیں اطاعت الٰہی کے نیچے نہ آجائیں اور جب تمام قوتیں اطاعت الٰہی کے نیچے آگئیں اور اپنے نیچرل خواص کے ساتھ خط استقامت پر چلنے لگیں۔ تو ایسے شخص کا نام مسلمان ہوگا لیکن ان تمام قوتوں کا اپنے اپنے مطالب میں پورے پورے طور پر کامیاب ہو جانا اور رضائے الٰہی کے نیچے گم ہو کر اعتدال مطلوب کو حاصل کرنا بجز تعلیم الٰہی اور تائید الٰہی غیر ممکن اور محال ہے اور ضرور تھا کہ کوئی کتاب دنیا میں خداتعالیٰ کی طرف سے ایسی نازل ہوتی کہ جو اسلام کا طریق خدا کے بندوں کو سکھاتی کیونکہ جس طرح ہم اپنے ماتحت جانوروں گھوڑوں گدھوں بیلوں وغیرہ کو تربیت کرتے ہیں تا ان کی مخفی استعدادیں ظاہر کریں اور اپنی مرضی کے موافق ان کو چلاویں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ پاک فطرت انسانوں کی فطرتی قوتیں ظاہر کرنے کیلئے ان کی طرف توجہ فرماتا ہے اور کسی کامل الفطرت پر وحی نازل کر کے دوسروں کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کرتا ہے تا وہ اس کی اطاعت میں محو ہو جائیں۔ یہی قدیم سے سنت اللہ ہے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ ہریک زمانہ کی استعداد کے موافق اسلام کا طریق اس زمانہ کو سکھلاتا رہا ہے۔ اور چونکہ پہلے نبی ایک خاص قوم اور خاص ملک کیلئے آیا کرتے تھے اس لئے ان کی تعلیم جو ابھی ابتدائی تھی مجمل اور ناقص رہتی تھی کیونکہ بوجہ کمی قوم اصلاح کی حاجت کم پڑتی تھی اور چونکہ انسانیت کے پودہ نے ابھی پورا نشوونما بھی نہیں کیا تھا اسلئے استعدادیں بھی کم درجہ پر تھیں اور اعلیٰ تعلیم کی برداشت نہیں کر سکتی تھیں پھر ایسا زمانہ آیا کہ استعدادیں تو بڑھ گئیں مگر زمین گناہ اور بدکاری اور مخلوق پرستی سے بھر گئی اور سچی توحید اور سچی راستبازی نہ ہندوستان میں باقی رہی اور نہ مجوسیوں میں اور نہ یہودیوں میں اور نہ عیسائیوں میں اور تمام قوتیں ضلالت اور نفسانی جذبات کے نیچے دب گئیں اس وقت خدا نے قرآن شریف کو اپنے پاک نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کر کے دنیا کو کامل اسلام