سکھاؔ یا اور پہلے نبی ایک ایک قوم کیلئے آیا کرتے اور اسی قدر سکھلاتے تھے جو اسی قوم کی استعداد کے اندازہ کے موافق ہو اور جن تعلیموں کی وہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ تعلیمیں اسلام کی ان کو نہیں بتلاتے تھے اسلئے ان لوگوں کا اسلام ناقص رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان دینوں میں سے کسی دین کا نام اسلام نہیں رکھا گیا۔ مگر یہ دین جو ہمارے پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دنیا میں آیا اس میں تمام دنیا کی اصلاح منظور تھی اور تمام استعدادوں کے موافق تعلیم دینا مدنظر تھا اسلئے یہ دین تمام دنیا کے دینوں کی نسبت اکمل اور اتم ہوا اور اسی کا نام بالخصوصیت اسلام رکھا گیا اور اسی دین کو خدا نے کامل کہا جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔ ۱؂ یعنی آج میں نے دین کو کامل کیا اور اپنی نعمت کو پورا کیا اور میں راضی ہوا جو تمہارا دین اسلام ہو۔ چونکہ پہلے دین کامل نہیں تھے اور ان قوانین کی طرح تھے جو مختص القوم یا مختص الزمان ہوتے ہیں اسلئے خدا نے ان دینوں کا نام اسلام نہ رکھا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ وہ انبیاء تمام قوموں کیلئے نہیں آئے تھے بلکہ اپنی اپنی قوم کیلئے آتے تھے اور اسی خرابی کی طرف ان کی توجہ ہوتی تھی جو ان کی قوم میں پھیلی ہوئی ہوتی تھی اور انسانیت کی تمام شاخوں کی اصلاح کرنا ان کا کام نہیں تھا کیونکہ ان کے زیر علاج ایک خاص قوم تھی جو خاص آفتوں اور بیماریوں میں مبتلا تھی اور ان کی استعدادیں بھی ناقص تھیں اسی لئے وہ کتابیں ناقص رہیں کیونکہ تعلیم کی اغراض خاص خاص قوم تک محدود تھے مگر اسلام تمام دنیا اور تمام استعدادوں کیلئے آیا اور قرآن کو تمام دنیا کی کامل اصلاح مدنظر تھی جن میں عوام بھی تھے اور خواص بھی تھے اور حکماء اور فلاسفر بھی اس لئے انسانیت کے تمام قویٰ پر قرآن نے بحث کی اور یہ چاہا کہ انسان کی ساری قوّ تیں خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا ہوں اور یہ اسلئے ہوا کہ قرآن کا مدنظر انسان کی تمام استعدادیں تھیں اور ہریک استعداد کی اصلاح منظور تھی اور اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبیین ٹھہرے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر وہ تمام کام پورا ہوگیا جو پہلے اس سے کسی نبی کے ہاتھ پر پورا نہیں ہوا تھا۔ چونکہ قرآن کو نوع انسان کی تمام استعدادوں سے کام پڑتا تھا اور وہ دنیا کی عام اصلاح کیلئے نازل