ہےؔ ۔ یہاں تک کہ وہ محبت انسان کے دل میں ا س قدر گھر کر جاتی ہے کہ اس کے دل کو چیرکر اندر چلی جاتی ہے اور
کبھی اس کو دیوانہ سا بنا دیتی ہے او رنہ صرف محبوب تک ہی محدود رہتی ہے بلکہ انسان اپنے محبوب کے دوستوں سے بھی محبت کرتا ہے اور اس شہر سے بھی محبت کرتا ہے جس میں وہ رہتا ہے
اور ان اوضاع اور اطوار سے بھی محبت کرتا ہے جو محبوب میں پائے جاتے ہیں اوراس ملک سے بھی محبت کرتا ہے جہاں محبوب رہتا ہے ایسا ہی انسانی عداوت بھی صرف ایک شخص تک محدود
نہیں رہتی اور بعض اوقات پشتوں تک اس کا اثر باقی رہتا ہے ایسا ہی انسانی خوف بھی دور دراز نتیجہ سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ آخرت کا خوف بھی دامنگیر ہو جاتا ہے لہٰذا دوسرے حیوانات کی قوتیں
انسانی قوتوں کے منبع اور سرچشمہ میں سے ہرگز نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک طبیعی خواص ہیں جو بے اختیار ان سے ظہور میں آتے ہیں اور جو کچھ انسان کو دیا گیا ہے وہ انسان ہی کے ساتھ خاص
ہے۔
اب جاننا چاہئے کہ جس قدر انسان کو قوتیں دی گئی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اپنے محل پر خرچ کرنا اور ہر یک قوت کا خداتعالیٰ کی مرضی اور رضا کے
راہ میں جنبش اور سکون کرنا بھی وہ حالت ہے جس کا قرآن شریف کی رو سے اسلام نام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کی یہ تعریف فرماتا ہے۔ ۱ یعنی انسان کا اپنی ذات کو اپنے تمام قویٰ
کے ساتھ خداتعالیٰ کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اپنی معرفت کو احسان کی حد تک پہنچا دینا یعنی ایسا پردہ غفلت درمیان سے اٹھانا کہ گویا خداتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہی اسلام ہے پس ایک شخص کو
مسلمان اس وقت
وَجہٌ کے اصل معنی لغت کی رو سے مُنہ کے ہیں چونکہ انسان منہ سے شناخت کیا جاتا ہے۔ اور کروڑہا انسانوں میں مابہ الامتیاز منہ سے قائم ہوتا ہے اس لئے اس آیت میں منہ
سے مراد استعارہ کے طور پر انسان کی ذات اور اس کی قوتیں ہیں جن کی رو سے وہ دوسرے جانوروں سے امتیاز رکھتا ہے گویا وہ قوتیں اس کی انسانیت کا مُنہ ہے۔