انساؔ ن کا عمدہ کمال یہی ہے کہ وہ کھانے پینے اور ہر یک قسم کی عیاشی اور دولت اور حکومت کی لذات میں عمر بسر
کرے کیونکہ اس قسم کی لذات میں دوسرے جانور بھی اس کے شریک ہیں بلکہ انسان کا کمال ان قوتوں کے کمال پر موقوف ہے جو اس میں اور اس کے غیر میں مابہ الامتیاز ہیں اور انسان کے دین کا
کمال یہ ہے کہ اس کی ہر یک قوت میں دین کی چمک نظر آوے اور ہر یک فطرتی طاقت اس کی ایک دین کا چشمہ ہو جاوے او روہ قوتیں یہ ہیں۔
عقل۔ عفت۔ شجاعت۔ عدل۔ رحم۔ صبر۔ استقامت۔ شکر۔
محبت۔ خوف۔ طمع ۔ حزن۔ غم۔ ایثار۔ سخاوت۔ ہمت۔ حیا۔ سخط۔ غضب۔ اعراض۔ رضا۔ شفقت۔ تذلل ۔ حمد۔ ذم۔ امانت۔ دیانت۔ صدق۔ عفو۔ انتقام۔ کرم۔ جود۔ مواسات ذکر۔ تصور۔ مروت۔ غیرت۔ شوق۔
ہمدردی۔ حلم۔ شدت۔ فہم۔ فراست۔ تدبیر۔ تقو ٰی۔ فصاحت۔ بلاغت۔ عمل جوارح ذوق۔ اُنس ۔ دعا۔ نطق۔ ارادہ۔ تواضع۔ رفق۔ مدارات۔ تحنن۔ وفا۔ حسن عہد۔ صلہ رحم۔ وقار۔ خشوع۔ خضوع۔ زہد۔ غبطہ۔ ایجاد۔
معاونت طلب تمدن۔ تسلیم۔ شہادت صدق۔ رضابقضا۔ احسان۔ توکل۔ اعتماد۔ تحمل۔ ایفاء عہد۔ تبتل۔ اطاعت۔ موافقت۔ مخالطت۔ عشق۔ فنا نظری۔ تطہر۔ فکر۔ حفظ ۔ادراک۔ بغض۔ عداوت۔ حسرت۔ اخلاص۔
علم الیقین۔ عین الیقین۔ حق الیقین۔ جہد۔ توبہ۔ ندامت۔ استغفار۔ بذلِ روح۔ ایمان۔ توحید۔ رویا۔ کشف۔ سمع۔ بصر۔ خطرات۔ یہ تمام قوتیں انسان میں بھی پائی جاتی ہیں اور کوئی دوسرا جاندار ان میں شریک
نہیں۔ اور اگرچہ بظاہر ایک ایسا شخص جس کو تدبر اور تفکر کرنے کی عادت نہیں کہہ سکتا ہے کہ ان قوتوں میں کئی ایک ایسی قوتیں بھی ہیں جن میں بعض دوسرے جانور بھی شریک ہیں مثلاً محبت یا
خوف یا عداوت مگر پوری پوری غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ شراکت صرف صورت میں ہے نہ کہ حقیقت میں۔ انسانی محبت اور خوف اور عداوت انسانی عقل اور معرفت اور تجربہ کا ایک نتیجہ
ہے پھر جبکہ انسانی عقل اور معرفت اور تجربہ دوسرے حیوانات کو حاصل نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا نتیجہ کیونکر حاصل ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسانی محبت اور خوف اور عداوت کا کوئی
انتہا نہیں انسانی محبت رفتہ رفتہ عشق تک پہنچ جاتی