سعیؔ اور کوشش کے نہیں ملتا اور وہ خوب جانتے تھے کہ خدا ہر یک جان سے اُسی جان کی قربانی چاہتا ہے نہ کسی غیر
کی۔ زید کی خودکشی بکرکے کام نہیں آتی ۔ بات یہی سچ ہے کہ خدا کو وہی پاتے ہیں جو آپ خدا کے ہو جاتے ہیں جو لوگ ہر ایک ناپاکی کے دروازے اپنے پر بند کرتے ہیں اُنہیں پر اُس پاک کے
دروازے کھولے جاتے ہیں۔
اسلام کیا چیز ہے
جبکہ ہم اس ثبوت کے دینے سے فارغ ہو چکے کہ درحقیقت بابا نانک صاحب ان پاک طبع بزرگوں میں سے تھے جن کے دلوں پر اسلام کا نور چمکا تو
اب اس سوال کا جواب باقی رہا کہ اسلام کیا چیز ہے سو واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو دنیا میں پیدا کر کے اس کی پیدائش کے مناسب حال اس میں ایک کمال رکھا ہے ۔جو اس کے وجود کی
علت غائی ہے اور ہر یک چیز کی واقعی قدروقیمت اسی صورت میں ہوتی ہے کہ جب وہ چیز اپنے کمال تک پہنچ جائے مثلاً بیلوں میں کلبہ رانی اور آب پاشی اور باربرداری کا ایک کمال ہے اور گھوڑوں
میں انسانوں کی سواری کے نیچے ان کی منشا کے موافق کام دینا ایک کمال ہے اور اگرچہ ان کمالات تک پہنچنا ان جانوروں کی استعداد میں داخل ہے مگر تا ہم کاشت کاروں اور چابک سواروں کی تعلیم
سے یہ کمالات ان کے ظہور میں آتے ہیں کیونکہ وہ لوگ ریاضت اور تعلیم دینے سے ایسی طرز سے ا ن جبلی استعدادوں کو ان جانوروں میں پیدا کر دیتے ہیں جو اُن کے اپنی منشا کے موافق ہوں پس
اس قاعدہ کے رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ انسان بھی کسی کمال کے حاصل کرنے کے لئے پیدا کیاگیا ہے کیونکہ جبکہ دنیا کی کسی چیز کا وجود عبث اور بے کار نہیں تو پھر انسان جیسا ایک نادرالخلقت
جاندار جس میں بہت سی عمدہ اور بے مثل قوتیں پائی جاتی ہیں کیونکر اپنی خلقت کی رو سے محض بے فائدہ اور نکما ٹھہر سکتا ہے۔ لیکن یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ