کا بھی جواز پایا جاتا ہے *اس لئے ہم منو کی پیروی نہیں کرسکتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ منو کو ایسی بدفعلیوں کے لئے بھی کوئی وید کی شرتی ضرور ملی ہوگی اور جبکہ خاندان کی ترقی کے لئے منکوحہ عورتوں کو آپ لوگوں کا وید وہ نالائق اجازت دیتا ہے کہ جس کا ہم کئی مرتبہ ذکر کر چکے ہیں تو پھر اس سے بڑھ کر اور بے حیائی کیا ہوگی۔ جس سے منو نے آپ لوگوں کا دل دکھایا ہے سب سے گندہ مسئلہ تو نیوگ کا ہے پھر جب وہ وید میں موجود ہے۔ تو کہنا چاہئے کہ وید میں سب کچھ ہے اور اگر یہی سچ تھا کہ بیگانہ نطفہ بھی اپنا نطفہ ٹھہر سکتا ہے تو پھر چاہئے تھا کہ بیرج داتا کی امراض متعدیہ نطفہ کے ساتھ نہ آویں بلکہ جس نے متبنّٰی کیا ہے اس کی متعدی مرضیں متبنّٰی کو لگ جائیں۔ پھر جبکہ قانون قدرت جو حقیقی بیٹے کے متعلق ہے بدل نہ سکا تو نسب میں کیونکر تبدیلی واقع ہوگی۔ اور اس وقت یہ بیان کرنا بھی ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں میں نیوگ کا مسئلہ ایک نہایت مشہور مسئلہ ہے یہاں تک کہ بعض نے اس کو صرف دینی واجبات سے ہی خیال نہیں کیا بلکہ بڑے ثواب کا ذریعہ خیال کیا ہے اور پُرانے وید کے مفسروں نے بھی اس مسئلہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے چنانچہ آپ لوگ یاگولک جی کے نام سے واقف ہوں گے جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے جن کا وید بھاش بڑے معتبر پایہ کا سمجھا جاتا ہے اور جو آریہ ورت کے بڑے نامی فاضل اور اول درجہ کے وید دانوں میں سے شمار کئے گئے ہیں وہ اپنی کتاب یاگولک سمرتی کے ۶۸۔ اشلوک میں لکھتے ہیں کہ جب عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ مجامعت کرنے سے اولاد نہ پیدا ہو اور نہ آئندہ امید ہو تو حیض سے فارغ ہوتے ہی منو پر یہ الزام ٹھیک نہیں کہ اس نے نیوگ کا مسئلہ لکھا ہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ نیوگ کی تعلیم خود وید میں موجود ہے اس میں نہ کوئی منو کا گناہ ہے نہ یاگولک کا نہ دیانند کا نہ پوران والوں کا۔ ہاں بظاہر یہ الزام منو پر لگ سکتا ہے کہ اس نے تمام ہندو عورتوں کو زنا کی رغبت دی ہے کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ بدفعلی عورتوں کی جبلی عادت ہے۔ اور زنا کی حالت میں عورت کی سزا صرف اسی قدر ہے کہ اگر نطفہ قرار پکڑ گیا ہو تو اس کا خصم اس کو اپنے نطفہ سے پاک کرے اور اگر قرار نہیں پکڑا تو حیض کا خون آتے ہی وہ آپ ہی پاک ہو جائے گی لیکن سوامی دیال نے جو کچھ بازاری عورتوں کی نسبت لکھا ہے وہ بھی اس سے کم نہیں کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ اگر بازاری عورت حرام کاری سے انکار کرے اور خرچی لے چکی ہو تو وہ اس خرچی کا دوچند دام واپس کرے اور اگر بدفعلی کا وعدہ کر دیا ہو اور ابھی کچھ نہ لیا ہو تو جس قدر لینے کا وعدہ تھا اسی قدر بطور تاوان دیوے یہی حکم مرد کی نسبت ہے۔ لیکن درحقیقت یہ وید مقدس کے قوانین ہیں اس میں نہ منو پر کچھ دوش آ سکتا ہے نہ سوامی دیال وغیرہ پر۔ دیکھو ترجمہ یاگولک سمرت ادھیا۲ شلوک ۲۹۶۔