دیا یہ کس کو معلوم نہیں کہ منو ہندو دھرم میں ایک مسلم رشی ہے اور منوسمرتی کے ادھیا (۱)میں لکھا ہے کہ اس وقت کے رشیوں نے اقرار کیا کہ وید کا جاننے والا منو ہی ہے۔ غرض منو ایسا مسلم ہے کہ عدالت انگریزی بھی ہندوؤں کے مذہبی مقدمات کو منو کے دھرم شاستر کی رو سے فیصلہ کرتی ہے پس یہ صحیح نہیں ہے کہ منو ملحدانہ زندگی بسر کرتا تھا اور وید کی پیروی سے اس نے استعفا دے رکھا تھا سب ہندو منو کو ایک بزرگ منش جانتے ہیں اور اگر فرض بھی کرلیں کہ منو اپنی تمام باتوں میں ویدوں کا تابع نہیں تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ نیوگ کا مسئلہ کچھ منو کا ہی خاص عقیدہ نہیں یہ تو آریہ دھرم میں ایک متفق علیہ عقیدہ ہے *اور یہ بھی یاد رہے کہ پنڈت دیانند نے بھی نیوگ کے ثبوت میں علاوہ وید کے منو کا حوالہ دیا ہے اب کیا دیانند کی بھی عقل ماری گئی تھی کہ جو ایک ایسے آدمی کا حوالہ دیتا ہے جو اپنے بیان میں وید کا ماہر نہیں۔ پھر جبکہ بڑے بڑے دھرم مورت لوگ منو کو ایسا سمجھتے رہے کہ وہ اپنے ہریک قول میں وید کا پیرو ہے اور دیانند ستیارتھ پرکاش میں اس کی بہت تعریف کرتا ہے تو پھر اس کی گواہی کو منظور نہ کرنا اگر ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے۔ اور اگرآپ لوگ منو سے ناراض ہیں تو منو کو جانے دیں مگر یہ تو فرمائیے کہ کچھ وید پر تو ناراضگی نہیں مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل ناراضگی آپ کی وید پر ہی ہے۔ منو پر تو بظاہر دانت پیسے جاتے ہیں۔ وہ بیچارہ ایسی شرتیوں کو وید میں پاکر کیونکر اور کہاں چھپا سکتا تھا کیا دیانند ان شرتیوں کو چھپا سکا۔ کیا آپ لوگوں کے بڑے مہاراج یاگولک جی بھاشکار ویدان شرتیوں کو چھپا سکے تو پھر ایک دفعہ آپ لوگ ہاتھ دھو کر غریب منو کے پیچھے کیوں پڑ گئے یہ تو ظلم ہے اور اگر کہو کہ منو کے بعض دوسرے مقامات میں عام بدفعلیؔ * نوٹ۔ نیوگ صرف عقیدہ ہی نہیں بلکہ قدیم سے آریوں کا اس پر عملدرآمد ہے راجہ پانڈ کی رانیوں کا نیوگ تو ابھی بیان ہو چکا ہے اور ڈاکٹر برنیئر اپنی کتاب وقائع سیروسیاحت میں لکھتا ہے کہ جگناتھ کے مقام پر صدہا جوان عورتیں نیوگ کرانے والی دیکھی گئیں جو یہ پاک کام صرف بیراگیوں اور جوگیوں سے ہی کراتی تھیں اور ان کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۶ میں ایک ہندو خاندانی سے نقل کر کے لکھا ہے کہ وہ کشمیر کے ایک ضلع میں گیا تو اس ضلع کے ہندوؤں نے اس کو خاندانی پاکر اپنی جوروان پیش کیں تا وہ ان سے ہم بستر ہوویں اور ایک معزز آدمی کی نسل سے انہیں فخر حاصل ہو۔ منہ