کو اؔ س سچے فلسفہ کی خبر ہوتی تو مارے شرمندگی کے کسی کو منہ نہ دکھا سکتے ہزاروں فسق و فجور او رمکر اور فریب
کے ساتھ یہ دعوے کرنا کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے ہیں عجیب قسم کی چالاکی ہے جس مذہب کا یہ اصول ہے کہ مسیح کی خود کشی نے تمام عبادتوں اور نیک کاموں او رنیک عملوں کو نکما اور ہیچ کر
دیا ہے اور ان کی ضرورت کچھ بھی باقی نہیں رہی کیا ایسے عقیدے کے لوگوں کی نسبت کچھ امید کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی بندگی میں دل لگاویں اور سچے دل سے تمام بدکاریوں کو چھوڑ دیں۔
پھر جبکہ ایسے قابل شرم عقیدہ میں گرفتار ہوکر انواع اقسام کی غفلتوں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں گرفتار ہو رہے ہیں تو تعجب ہے کہ اپنے حال پر کچھ بھی نہیں روتے اور اپنی مصیبت پر ایک
ذرہ ماتم نہیں کرتے بلکہ خود اندھے ہو کر دوسرں پر کمی بصارت کی تہمت لگاتے ہیں ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جسقدر باوانانک صاحب کے اشعار میں توحید الٰہی کے متعلق اور سچی وحدانیت کے
بیان کرنے میں عمدہ عمدہ مضامین پائے جاتے ہیں اگر وہ موجودہ انجیلوں میں پائے جاتے تو ہمیں بڑی ہی خوشی ہوتی مگر ایسے جعلی کتابوں میں سچے حقائق اور معارف کیونکر پائے جائیں جو حقیقی
خدادانی اور حقیقی خدا پرستی اور حقیقی نجات کے بھید سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں۔ نادانوں کے منہ پر ہر وقت کفارہ اور مسیح کی خود کشی اور ایک فانی انسان کا خدا ہونا چڑھا ہوا ہے اور باقی
تمام اعمال صالحہ سے فراغت کر رکھی ہے بیشک خدا کے بندوں اور اپنے بنی نوع کے لئے جان دینا اور انسان کی بھلائی کے لئے دکھ اٹھانا نہایت قابل تعریف امر ہے مگر یہ بات ہرگز قابل تعریف
نہیں کہ ایک شخص بے اصل وہم پر بھروسہ کر کے کنوئیں میں کود پڑے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے جان قربان کرنے کا یہ طریق تو بے شک صحیح ہے کہ خدا کے بندوں کی معقول
طریقہ سے خدمت کریں اور ان کی بھلائی میں اپنے تمام انفاس خرچ کردیں اور ان کے لئے ایسی کوشش کریں کہ گویا اس راہ میں جان دے دیں مگر یہ ہرگز صحیح نہیں ہے کہ اپنے سر پر پتھر مارلیں
یا کنوئیں میں ڈوب مریں یا پھانسی لے لیں اور پھر تصور کریں کہ اس بے جا حرکت سے نوع انسان کو کچھ فائدہ پہنچے گا عیسائیوں کو سمجھنا چاہئے کہ باوانانک صاحب حقیقی نجات کی راہوں کو
خوب معلوم کر چکے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ پاک ذات بجز اپنی