عمدہ ؔ ہے جو انسان گناہ سے پاک ہو مگر کیا گناہ سے پاک ہونے کا یہی طریق ہے کہ ہم کسی غیر آدمی کی خودکشی پر
بھروسہ رکھ کر اپنے ذہن میں آپ ہی یہ فرض کر لیں کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے بالخصوص ایسا آدمی جو انجیل میں خود اقرار کرتا ہے جو میں نیک نہیں وہ کیونکر اپنے اقتدار سے دوسروں کو نیک بنا
سکتا ہے اصل حقیقت نجات کی خداشناسی اور خدا پرستی ہے۔ پس کیا ایسے لوگ جو اس غلط فہمی کے دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو مریم کا صاحبزادہ ہی خدا ہے وہ کیسے حقیقی نجات کی امید رکھ
سکتے ہیں ا نسان کی عملی اور اعتقادی غلطیاں ہی عذاب کی جڑھ ہیں وہی درحقیقت خدا تعالیٰ کے غضب سے آگ کی صورت پر متمثل ہوں گی اور جس طرح پتھر پر سخت ضرب لگانے سے آگ نکلتی
ہے اسی طرح غضب الٰہی کی ضرب انہیں بداعتقادیوں اور بدعملیوں سے آگ کے شعلے نکالے گی اور وہی آگ بداعتقادوں اور بدکاروں کو کھا جائے گی جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ بجلی کی آگ کے ساتھ
خود انسان کی اندرونی آگ شامل ہو جاتی ہے تب دونوں مل کر اس کو بھسم کر دیتی ہیں۔ اسی طرح غضب الٰہی کی آگ بداعتقادی اور بداعمالی کی آگ کے ساتھ ترکیب پا کر انسان کو جلا دے گی اسی
طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ۱ یعنی جہنم کیا چیز ہے۔وہ خدا کے غضب کی آگ ہے جو دلوں پر پڑے گی یعنی وہ دل جو بداعمالی اور بداعتقادی کی آگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ
غضب الٰہی کی آگ سے اپنے آگ کے شعلوں کو مشتعل کریں گے۔ تب یہ دونوں قسم کی آگ باہم مل کر ایسا ہی ان کو بھسم کرے گی جیسا کہ صاعقہ گرنے سے انسان بھسم ہو جاتا ہے پس نجات وہی
پائے گا جو بداعتقادی اور بدعملی کی آگ سے دور رہے گا ۔سو جو لوگ ایسے طور کی زندگی بسر کرتے ہیں کہ نہ تو سچی خدا شناسی کی وجہ سے ان کے اعتقاد درست ہیں اور نہ وہ بداعمالیوں سے
باز رہتے ہیں بلکہ ایک جھوٹے کفارہ پر بھروسہ کر کے دلیری سے گناہ کرتے ہیں وہ کیونکر نجات پا سکتے ہیں یہ بے چارے ابتک سمجھے نہیں کہ درحقیقت ہر یک انسان کے اندر ہی دوزخ کا شعلہ
اور اندر ہی نجات کا چشمہ ہے دوزخ کا شعلہ فر و ہونے سے خود نجات کا چشمہ جوش مارتا ہے اس عالم میں خدا تعالیٰ یہ سب باتیں محسوسات کے رنگ میں مشاہدہ کرادے گا اگر
عیسائیوں