پھر آؔ گے لکھتاہے کہ وہ ست گورو یسوع مسیح ہے جس نے اپنی جان قربان کی اور گنہگاروں کے بدلے آپ *** ہوا۔ اس کے ماننے سے لوگ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں‘‘ اور پھر سکھ صاحبوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ جن لوگوں کو آپ اب تک گورو سمجھے بیٹھے ہیں اور ان سے روشنی پانے کی امید رکھتے ہیں وہ لوگ اس لائق نہیں ہیں کہ آپ کے تاریک دل کو روشن کریں ہاں اس گورو یسوع مسیح میں یہ خاصیت ہے کہ کیسا ہی دل تاریک اور ناپاک کیوں نہ ہوو ہ اس کو روشن اور پاک کر سکتا ہے غرض یہ کہ تم یسوع کو خدا کر کے مان لو۔ پھر تم خاصے پاک اور پوتر ہو جاؤ گے اور سب گناہ جھڑ جائیں گے اور منش سے دیوتا بن جاؤ گے۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر انسانوں کو ہی خدا بنانا ہے تو کیا اس قسم کے خدا ہندؤوں میں کچھ کم ہیں۔ باوانانک صاحب ہندؤوں کے مت سے کیوں بیزار ہوئے اسی لئے تو ہوئے کہ ان کا وید بھی فانی چیزوں کو خدا قرار دیتا ہے اور پانی اور آگ اور ہوا اور سورج اور چاند کو پرستش کے لائق سمجھتا ہے اور اس سچے خدا سے بیخبر ہے جو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے پھر جبکہ باواصاحب اس سچے خدا پر ایمان لائے جس کی بے مثل اور کامل ذات پر زمین و آسمان گواہی دے رہا ہے اور نہ صرف ایمان لائے بلکہ اس کے انوار کی برکتیں بھی حاصل کر لیں تو پھر ان کے پیرؤں کی عقلمندی سے بہت بعید ہے کہ وہ اس تعلیم کے بعد جوان کو دی گئی ہے پھر باطل خداؤں کی طرف رجوع کریں۔ ہندو لوگ ہزارہابرس ایسے خداؤں کی آزمائش کر چکے ہیں اور نہ سرسری طور پر بلکہ بہت تحقیق کے بعد ایسے خدا ان کو چھوڑنے پڑے اب پھر اس جھوٹی کیمیا کی تمنا ان کی دانشمندی سے بہت دور ہے ۔باوانانک صاحب نے اس خدا کا دامن پکڑا تھا جو مرنے اور جنم لینے سے پاک ہے اور جو لوگوں کے گناہ بخشنے کے لئے آپ *** بننے کا محتاج نہیں اور نہ کسی کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دینے کی اس کو حاجت ہے مگر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ عیسائیوں کا یہ کیسا خدا ہے جس کو دوسروں کے چھوڑانے کے لئے بجز اپنے تئیں ہلاک کرنے کے اور کوئی تدبیر ہی نہیں سوجھتی۔ اگر درحقیقت زمین و آسمان کا مدبر اور مالک اور خالق یہی بیچارہ ہے تو پھر خدائی کا انتظام سخت خطرہ میں ہے۔ بے شک یہ خواہش تو نہایت