خداؔ پوجے جاتے ہیں پس گویا چولہ صاحب بزبان حال ہر یک مذہب کے انسان کو کہہ رہا ہے کہ اے غافل تو کہاں جاتا ہے
اور کن خیالات میں لگا ہے اگر سچے مذہب کا طالب ہے تو ادھر آ اور اس خدا پر ایمان لا جس کی طرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بلاتا ہے کہ وہی غیرفانی اور کامل خدا اور تمام عیبوں سے منزّ ہ
اور تمام صفات کاملہ سے متصف ہے۔
باوانانک صاحب پر پادریوں کا حملہ
یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے پادری جس قدر دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی کرنے کے لئے اپنا وقت اور اپنا مال
خرچ کر رہے ہیں اس کا کروڑواں حصہ بھی اپنے مذہب کی آزمائش اور تحقیق میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ جو شخص ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے اور اس ازلی ابدی غیرمتغیر خدا پر یہ
مصیبت روا رکھتا ہے کہ وہ ایک عورت کے پیٹ میں نو مہینہ تک بچہ بن کر رہا اور خون حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندی راہ سے پیدا ہوا اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا۔ ایسے
قابل شرم اعتقادوالوں کو چاہئے تھا کہ کفارہ کا ایک جھوٹا منصوبہ پیش کرنے سے پہلے اس قابل رحم انسان کی خدائی ثابت کرتے اور پھر دوسرے لوگوں کو اس عجیب خدا کی طرف بلاتے مگر میں
دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کو اپنے مذہب کا ذرہ بھی فکر نہیں۔ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ ایک پرچہ امریکن مشن پریس لودھیانہ میں سے پنجاب ریلیجسبک سوسائٹی کی کارروائیوں کے واسطے ایم وایلی
مینجر کے اہتمام سے نکلا ہے جس کی سرخی یہ ہے۔ وہ گرو جو انسان کو خدا کا فرزند بنا دیتا ہے اس پرچہ میں سکھ صاحبوں پر حملہ کرنے کے لئے آدگرنتھ کا یہ شعر ابتدائی تقریر میں لکھا
ہے۔
جے سوچاندا اوگوین سورج چڑھے ہزار
ایتے چانن ہندیاں گوربن کھور اندھار
یعنی اگر سوچاند نکلے اور ہزار سورج طلوع کرے تو اتنی روشنی ہونے پر بھی گورو یعنی مرشد اور ہادی
کے بغیر سخت اندھیرا ہے پھر اس کے بعد لکھا ہے افسوس کہ ہمارے سکھ بھائی ناحق دس بادشاہیوں کو گورو مان بیٹھے ہیں اور اس ست گوروکو نہیں ڈھونڈتے جو منش کو دیوتا بنا سکتا ہے