کا نماؔ ز پڑھنا *ان دونوں کی حضوری نہ ہونے سے نیت سے علیحدہ ہونا نواب دولت خاں نے سبب پوچھا کہ آپ نے نماز کو کیوں توڑا۔ گورو نانک صاحب نے فرمایا کہ اس وقت آپ کابل میں گھوڑے خریدتے پھرتے تھے۔ قاضی کو بتلایا کہ ان کی گھوڑی بیاہی تھی صحن میں کھڑا تھا اندیشہ ہوا کہ کہیں اس میں بچھیرانہ گر پڑے۔ دونوں صاحبوں نے قبول کیا کہ ٹھیک نماز کے وقت ہمارے خیال ٹھکانے نہ تھے۔ اور منجملہ انکی کرامات کے جو سیوا سنگھ صاحب نے اپنے خط میں لکھی ہیں ایک یہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ حسن ابدال کے متّصل ایک جگہ پنجہ صاحب ہے وہاں نانک صاحب کا بابا ولی قندھاری کے ساتھ یہ ماجرا گذرا کہ ولی قندھاری صاحب پہاڑ کے اوپر ایک چشمہ کے متصل رہتے تھے۔ اتفاق سے وہاں گورونانک صاحب اور مردانہ جا نکلے۔ مردانہ نے گورو صاحب سے التماس کی کہ اگر حکم ہوتو میں پانی لے آؤں انہوں نے اجازت بعض سکھ صاحبان اپنی ناواقفی کے سبب سے باوانانک صاحب کے اسلام سے انکار کرتے ہیں اور جب ان کے اسلام کا ذکر کیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں مگر ان میں سے جو صاحب اپنے مذہب کے واقف اور عقلمند ہیں وہ خود ان کے اسلام کا اقرار کرتے ہیں دیکھو سردار سیوا سنگھ نے اپنے خط ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء میں کیونکہ صاف صاف اقرار کر دیا کہ باوانانک صاحب نے نواب دولت خان اور قاضی کے ساتھ نماز پڑھی اور ان کی عدم حضور نیت کی وجہ سے پھر نماز سے علیحدہ ہوگئے ظاہر ہے کہ اگر باوا صاحب کی عادت نماز پڑھنا نہ ہوتا اور وہ اپنے تئیں غیر مسلمان سمجھتے تو مسلمانوں کے ساتھ نماز میں ہرگز شامل نہ ہوتے پس نمازیوں کے ساتھ ان کا نماز میں کھڑا ہو جانا ایک نہایت پختہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ بات ہماری طرف سے نہیں بلکہ سردار سیوا سنگھ صاحب کے خط کا بیان ہے جو خالصہ بہادر امرتسر مدرسہ کے سپرنٹنڈنٹ ہیں اور عرصہ قریب دس سال کا ہوا ہے کہ ایک صاحب بھائی نرائن سنگھ نام جن کو آد گرنتھ کنٹھ تھا امرتسر سے قادیان میں تشریف لائے اور بازار میں ہماری مسجد کے قریب انہوں نے وعظ کیا اور بہت سے مسلمان اور ہندو ان کی باتیں سننے کیلئے جمع ہوئے اور اس تقریر کی اثناء میں انہوں نے بیان فرمایا کہ باوا نانک صاحب پانچ وقت نماز پڑھا کرتے تھے ہندو یہ بات سنکر سخت ناراض ہوئے اور قریب تھا کہ ان پر حملہ کریں مگر مسلمانوں نے ان کی حمایت کی اور انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ سب نادان ہیں ان کو خبر نہیں جو باتیں میں بیان کرتا ہوں ان کے بڑے بڑے ثبوت میرے پاس ہیں مگر ہندو بیٹھ نہ سکے اور برا کہتے چلے گئے۔ یہ واقعہ قریباً صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو قادیان میں معلوم ہے۔ منہ