اورؔ منجملہ باوا صاحب کی کرامات کے چولا صاحب بھی ایک بڑی کرامت ہے ہم نے خود اپنی جماعت کے ساتھ ڈیرہ نانک
میں جاکر چولا صاحب کو دیکھا ہے ایسے لطیف اور خوبصورت حرفوں میں قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں کہ ایسے کپڑے پر اس خوبصورتی کے ساتھ لکھنا انسان کا کام معلوم نہیں ہوتا اور جابجا
ایسے خوبصورت دائرے ہیں جو گویا نہایت عمدہ پرکار کے ساتھ کھینچے گئے ہیں اور جس عمدگی سے کسی جگہ موٹے حروف ہیں اور کسی جگہ باریک حرفوں میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں اور
نہایت موزوں مقامات میں رکھی گئی ہیں ان پر نظر غور کر کے تعجب آتا ہے کہ کیونکر ایسے ایک معمولی کپڑے پر ایسی لطافت سے یہ تمام آیتیں لکھی گئیں ہیں۔ اور ایک جگہ کلمہ
لَا الٰہ الّا اللّٰہ
محمّد رسُوْل اللّٰہِ
نہایت موٹا اور جلی لکھا ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ پڑھنے والوں کے دلوں کو اپنی لطافت اور ُ حسن سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے غرض وہ تمام نقوش قدرتی ہی معلوم ہوتے
ہیں اور پھر عجب تر یہ کہ باوجود صدہا حوادث کے جو ملک پنجاب پر وارد ہوتے رہے ان سب کے صدمہ سے چولہ صاحب اب تک محفوظ رہا سو بلاشبہ اول درجہ کی کرامت باوا صاحب کی وہی
چولہ ہے جن لوگوں نے چولہ صاحب کو نہیں دیکھا یا غور کے ساتھ نظر نہیں کی وہ اس کی عظمت کو پہچان نہیں سکتے لیکن جو لوگ غور سے دیکھیں گے ان کو بے شک خدا تعالیٰ کی قدرت یاد آئے
گی اور بلاشبہ اس وقت جنم ساکھی کلاں یعنی بھائی بالا والی کے جنم ساکھی کا وہ بیان ان کی نظر کے سامنے آجائے گا جس میں لکھا ہے کہ وہ قرآنی آیات قدرت کے ہاتھ سے چولہ صاحب پر لکھی
گئی ہیں۔*
اور بعض کرامات باوانانک صاحب سے مجھ کو سردار سیوا سنگھ سپرنٹنڈنٹ مدرسہ خالصہ بہادر امرت سر نے بذریعہ اپنے خط ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء اطلاع دی چنانچہ بعینہٖ ان کے
خط کی عبارت ذیل میں لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔
سلطان پور میں نواب دولت خاں لودھی اور قاضی کے ساتھ نانک صاحب