دےؔ دی جب مردانہ اوپر گیا تو بابا ولی قندھاری نے اس سے کہا کہ تمہارے ساتھ بھی تو صاحب کرامات ہیں* وہاں ہی پانی کیوں نہیں نکال لیتے۔ اس نے گرو صاحب سے آکر اسی طرح عرض کر دیا گورو صاحب نے برچھی گاڑ کر وہاں سے پانی نکال لیا۔ ولی صاحب کا پانی خشک ہوگیا انہوں نے طیش میں آکر پہاڑ کو ان پر گرانا چاہا بابا نانک صاحب نے ہاتھ سے تھام دیا۔ چنانچہ پانچ انگل کا نشان ابتک موجود ہے۔ از انجملہ سیوا سنگھ صاحب کے خط میں ایک یہ کرامت لکھی ہے کہ باوا نانک صاحب نے ایک ریٹہ کے درخت کو میٹھا کر دیا اور صاحب موصوف اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ اس درخت کی اصل جگہ مجھ کو معلوم نہیں کوئی تو دارجیلنگ کی طرف بتلاتا ہے کوئی اوڑیسہ کی طرف بتلاتا ہے بادی یا بیدی وہاں سے لاتے ہیں یہ پھل بہتوں نے کھائی ہیں اور میں نے بھی کھایا ہے۔ ایسا ہی اور بھی کرامات سردار سیوا سنگھ صاحب نے لکھے ہیں مگر افسوس کہ ہم بباعث بڑھ جانے رسالہ کے تمام کرامات کو نہیں لکھ سکتے ہمارے نزدیک بابانانک صاحب کا چولہ صاحب اور ان کے اشعار جو حقائق اور معارف سے پر ہیں اعلیٰ درجہ کی کرامت ہے اور ایک نہایت عجیب پیشگوئی چولہ صاحب میں پائی جاتی ہے اور وہ ایک ایسی عظیم الشان کرامت ہے کہ اگر باوا صاحب کی طرف سے کوئی کرامت منقول نہ ہوتی تو وہی ایک کافی تھی اور وہ یہ ہے کہ چولہ صاحب پر بار بار قرآن کی اس آیت کو لکھا ہے کہ ۱؂ یعنی کہہ خدا وہ عظیم الشان خدا ہے جو اس سے پاک ہے جو کسی عورت کے پیٹ سے نکلے اور جنایا جائے اور ہریک چیز اس کی طرف محتاج ہے اور وہ کسی کی طرف محتاج نہیں اور اس کا کوئی قرابتی اور ہم جنس نہیں نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بہن اور نہ کوئی *نوٹ:صاحب کرامات کا لفظ بھی باوا نانک صاحب کے اسلام پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کسی ایسے شخص سے کوئی اعجوبہ امر صادر ہوجو مسلمان نہیں تو اس کے اس اعجوبہ کا نام کرامت نہیں رکھتے بلکہ اس کا نام استدراج رکھتے ہیں سو بابا ولی قندھاری نے جو باوا نانک صاحب کو صاحب کرامت قرار دیا جو اس سے صاف طور پر پایا گیا کہ انہوں نے کشفی طور پر معلوم کرلیا کہ باوا صاحب اہل اسلام ہیں ورنہ بابا قندھاری ان کا نام صاحب کرامت نہ رکھتا بلکہ ان کو صاحب استدراج کہتا اور بابا نانک صاحب نے بھی اس لفظ کو رد نہیں کیا اور مردانہ کا پانی کے لئے جانا صاف دلالت کرتا ہے کہ باوا صاحب بلا کراہت مردانہ کے ہاتھ سے کھا پی لیتے تھے ایسے ملکوں میں باوا صاحب کا دو دو برس رہنا جہاں ہندوؤں کا نام ونشان نہ تھا جیسا کہ ملک عرب کیا بغیر کھانے پینے کے ممکن تھا۔ منہ