خیالاؔ ت کا اندازہ کرلیا اور قاضی کو انہوں نے کہا کہ سچا مسلمان اپنے آپ کو پاک اور بے لوث بناتا ہے اس میں
راستبازی صبر اور صداقت قولی ہوتی ہے جو کچھ قائم ہے اس میں کسی کو مضرّ ت نہیں پہنچاتا اور جو کچھ مردہ ہے اس کو نہیں کھاتا )یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتا( اے نانک ایسا ہی مسلمان
سیدھا جنت میں جاتا ہے جب نانک نے یہ فقرے ابیات میں پڑھے تو اس وقت جتنے ہندو مسلمان بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ بابانانک میں خدا بول رہا ہے۔ از نسخہ انڈیا آفس صفحہ ۳۶ سے ۴۱
تک۔
اب جاننا چاہئے کہ باوانانک صاحب کی اس تقریر سے دو کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں (۱) اوّل یہ کہ جب قاضی نے ایک ایسی جگہ پر جہاں باوا صاحب موجود نہیں تھے یہ تذکرہ کیا کہ نانک یہ کیا
کہتا ہے کہ نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو باوا صاحب نے اس ذکر کو جو غائبانہ ہوا تھا کشفی طور پر معلوم کرلیا اور قاضی کو اپنے ابیات میں یہ جتلا دیا کہ اسلام کی مذمت میرا مقصود نہیں بلکہ
مقصود یہ ہے کہ اس زمانہ کے اکثر مسلمان رسم اور عادت کے طور پر مسلمان ہیں اسلام کی حقیقت ان میں نہیں پائی جاتی سچا مسلمان راستباز اور پاک طبع ہوتا ہے اور نیز جتلا دیا کہ مردہ کھانا
یعنی ِ گلہ کرنا مسلمانوں کا کام نہیں چونکہ قاضی نے غائبانہ باوا صاحب کا ِ گلہ کیا تھا۔ اور قرآن میں ہے کہ ِ گلہ کرنا مردہ کھانے کے برابر ہے اسلئے باوا صاحب نے قاضی کو متنبہ کر دیا کہ تو
نے مسلمان کہلا کر میرا گلہ کیوں کیا۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ اپنے بھائی کا گلہ کرنا مردہ کھانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے۱ یعنی ایک مسلمان کو چاہئے کہ دوسرے مسلمان کا گلہ نہ
کرے کیا کوئی مسلمان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاوے )۲( دوسری یہ کرامت تھی کہ اسلام کی ٹھیک حقیقت بتلا دی کیونکہ صبر اور استقامت کے ساتھ تمام راست
بازی کی راہوں کو پورا کرنا اور پاک اور بے لوث زندگی اختیار کرنا یہی اسلام کی جڑھ اور اصل حقیقت ہے اور باقی تمام شریعت کے احکام اس اجمال کی تفصیل ہیں چنانچہ ہم عنقریب کسی قدر
حقیقت اسلام کی بیان کریں گے۔