باوا ؔ نانک صاحب کی بعض کرامات کا ذکر یہ بات اللہ جلّ شانہٗ کی عادت میں داخل ہے کہ جب ایک انسان اپنے دل سے اپنی جان سے اپنے تمام وجود سے اس کی طرف جھک جاتا ہے اوراپنی زندگی کا اصل مقصد اسی کو ٹھہراتا ہے اور غیر سے قطع تعلق کرتا اور اس کی محبت سے بھر جاتا ہے تو پھر وہ قادر و کریم و رحیم خدا ایک خاص طور سے اس سے تعلق پکڑتا ہے اور ایک ایسے نئے رنگ میں اس پر تجلی فرماتا ہے جس سے دنیا غافل ہوتی ہے سو جو کچھ اس کے کامل اخلاص اور کامل صدق اور کامل وفا کی پاداش میں عنایت الٰہی وقتاً فوقتاً اس کی عزت ظاہر کرتی ہے مثلاً مشکلات کے وقت میں اس کی دستگیری فرماتی ہے اور ناقدر شناسوں پر اس کا قدر و منزلت کھول دیتی ہے اور اس کے دوستوں پر فضل اور احسان کا پرتوہ ڈالتی ہے اور اس کے موذی دشمنوں کو قہر کے ساتھ پکڑتی ہے اور اس کو معارف اور دقائق سے حصہ بخشتی ہے اور اس کی قبولیت کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے اور اس کے ہریک قول اور فعل میں برکت رکھ دیتی ہے اور اس کے ہریک بوجھ کی آپ متکفل ہو جاتی ہے اور عجیب طور پر اس کی تمام حاجتوں کو پورا کر دیتی ہے تو ان تمام صورتوں کا نام کرامت ہے اور جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو خدا اس کا ہو جاتا ہے اور جب خدا اس کا ہو جاتا ہے تو بہتوں کو جو اس کے نیک بندے ہیں اس کی طرف رجوع دیتا ہے اور یہ تمام عنایات ربّانیہ اس بندہ کی کرامات میں داخل ہوتی ہیں سو چونکہ باوا نانک صاحب درحقیقت خدا تعالیٰ کے مخلص بندوں میں سے تھے اور اپنی زندگی میں ایک کھلی کھلی تبدیلی کر کے اللہ جلّ شانہٗ کی طرف جھک گئے تھے اسلئے عنایات ربانیہ نے وہ کرامات بھی ان میں ظاہر کیں جو خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں ظاہر ہوا کرتی ہیں۔ چنانچہ نسخہ انڈیا آفس میں لکھا ہے کہ جب قاضی نے باوانانک صاحب پر بدظنی کی کہ یہ کیوں ایسا کہتا ہے کہ نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو باوانانک صاحب نے اپنی فوق الفطرت قوت سے قاضی کے