نہ ہو اور کسی وجہ سے قابل اولاد نہ رہا ہو گو کیسا ہی مردی کی طاقتیں رکھتا ہو تو وید مقدس کی یہ آگیا ہے کہ اس کی جورو
دوسرے سے اولاد حاصل کرے اور جب تک پتر کا نطفہ نہ ٹہرے تب تک یہ کارروائی برابر چلی جائے۔ یہی مضمون تھا جو ہم نے پہلے اشتہار میں لکھا تھا جس کو آپ لوگوں نے کہا کہ یہ خبث نفس
اور متعصبانہ جوش سے لکھا ہے۔ مگر افسوس تو یہ آتا ہے کہ ایسے سفلہ پن کے گندے الفاظ منہ پر لاکر پھر ہمارے اشتہار پر رد کیا لکھا کیا ردّ اسی کو کہتے ہیں کہ خاوند والی کو چھوڑ کر بیوہ پر
جاپڑے۔ ان بے تعلق قصوں کو درمیان میں لانا شاید اس غرض سے ہوگا کہ تا اصل بحث کی طرف لوگ توجہ نہ کریں اور اس طرح پر پردہ پوشی ہو جائے لیکن اس خائنانہ طریق کو کوئی منصف پسند نہ
کرے گا کاش اگر ایسے بیہودہ اشتہار دینے کی جگہ چپ ہی رہتے تو ہمیں یقین ہو جاتا کہ یہ لوگ بھلے مانس اور اشراف ہیں۔ سچی بات کو دیکھ کر چپ ہی کر گئے مگر اب تو انہوں نے مدت کے بعد
پھر اپنا گند ہم پر ظاہر کیا اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس گندی تعلیم کو وہ کیونکر اور کس تدبیر سے چھپاتے ہیں یا اپنی عملی زندگی میں اپنی بے اولاد عورتوں کا نیوگ کراکر ہمیں دکھاتے ہیں۔ بُرا نہ مانیں یہ
کوئی بے جا بات ہم نے نہیں کہی جو باتیں وید کی رو سے درست اور وید کی آگیا کے نیچے آگئی ہیں ان کا آریوں کے لئے کرنا دھرم اور نہ کرنا مہاپاپ ہے کیونکہ وید منسوخ تو نہیں ہوا تا یہ کہا
جائے کہؔ پہلے یہ بات جائز تھی اور اب ناجائز ہوگئی ہے اور جب ایسے مہان پرش جیسے دیانند اور یاگولک اور منوجی نیوگ پر زور دیویں اور وید کی شُرتیاں سنا دیں اور راجہ پانڈ کی رانیاں نیوگ
کر کے دکھلاویں تو پھر کوئی آریہ مہاں پاپی ہی ہوگا جو اب بھی یقین نہ کرے۔
پنڈت دیانند صاحب ستیارتھ پرکاش میں صاف لکھتے ہیں کہ نیوگ کے روکنے میں پاپ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس کا
روکنا پاپ ہے اس کا بجا لانا کس قدر واجبات سے ہے سو اے آریو دوڑو ثواب حاصل کرو تا ایسا ہو کہ ہریک کی بیوی کے نیوگ سے دس۱۰ دس۱۰ پتر ہوں جائے شرم!!! اور میں سوچ میں ہوں کہ
آپ لوگ کیوں بیچارے منو کے گرد ہوگئے کہ اس نے نیوگ کا مسئلہ آپ گھڑ لیا ہے ذرا سوچو کہ اگر منو کی کتاب مذہبی نہیں تھی تو دیانند نے کیوں اس کا حوالہ