بہتؔ قریب ہوگیا تھا اور ہمیں خود اس وقت کی تحریروں کو دیکھ کر اس امر کی تصدیق ہوتی ہے اور اس میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا اور درحقیقت اور بہت سی شہادتیں اور خود نانک کا مذہب بھی اس شک کو باقی رہنے نہیں دیتا نانک کے حالات سے یہ بھی واضح ہوگا کہ مسلمان بھی اس کو تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور نانک بھی ان سے ایسی صاف باطنی سے ملتا کہ کھلا کھلا مسجدوں میں ان کے ساتھ جاتا اور اس چال سے اپنے ہندو دوستوں اور ہمسایوں کو سخت اضطراب میں ڈالتا کہ وہ درحقیقت مسلمان ہے۔ جب نانک اور شیخ فرید نے سفر میں مرافقت اختیار کی تو لکھا ہے کہ یہ ایک گاؤں بسیار نام میں پہنچے* اور جہاں بیٹھتے تو ان کے اٹھ جانے کے بعد وہاں کے ہندو لوگ اس جگہ کو گائے کے گوبر سے لیپ کر پاک کرتے۔ اس کا باعث صاف یہ ہے کہ سخت پابند مذہب ہندو ان دونوں رفیقوں کی نشست گاہوں کو ناپاک خیال کرتے تھے اگر نانک مذہب کے لحاظ سے ہندو رہتا تو ایسی باتیں اس کی نسبت کبھی مذکور نہ ہوتیں۔ ان نتائج کی بڑی مویّد وہ روایت ہے جو نانک کے حج مکہ کے سفر کی نسبت ہے اگرچہ ڈاکٹر ٹرمپ کی سفر مکہ کے بارے میں یہ رائے ہے کہ یہ قصہ موضوعہ معلوم ہوتا ہے مگر بہرحال اس داستان کی ایجاد ہی صاف بتاتی ہے کہ نانک کے محرم راز دوست نانک کے مذہبی حالات پر نظر کر کے سفر حج کو کچھ بھی بعید از عقل نہیں سمجھتے تھے نانک کے مقالات میں اس سے منقول ہے کہ اس نے کہا۔ اگرچہ وہ مرد ہیں مگر حقیقت میں عورتیں ہیں جو محمد مصطفی اور کتاب اللہ (قرآن) کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے‘‘ نانک اسلام کے نبی محمدؐ کی شفاعت کا اعتراف کرتا ہے اور بھنگ شراب وغیرہ اشیاء کے استعمال سے منع کرتا ہے۔ دوزخ بہشت کا اقرار کرتا اور انسان کے حشر اور یوم الجزا کا قائل ہے سو لاریب یہ اقوال جو نانک کی طرف منسوب ہیں صاف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا قائل اور معتقد ہے۔ نوٹ۔ اس سے ثابت ہے کہ صلحاء اہل اسلام کی صحبت میں رہ کر کیسی کیسی پاک تاثیریں ہندوؤں کے دلوں میں ہوتی رہی ہیں جن سے تھوڑے ہی عرصہ میں چھ کروڑ ہندو مسلمان ہوگیا۔ منہ * نوٹ۔ بسیار کسی گاؤں کا نام نہیں مترجم کی غلطی ہے۔ اصل مطلب یہ ہے کہ وہ بہت سے دیہات میں پھرے اور ہندو سخت بغض سے پیش آئے کیونکہ بسیار بہت کو کہتے ہیں۔ منہ