مخالفؔ باتیں ظنی اور مشتبہ ٹھہریں گی جو نفسانی اغراض کی تحریک سے لکھی گئیں نہ ایسی باتیں جن کے لکھنے کا کوئی
بھی محرک موجود نہیں تھا اسی وجہ سے دانشمند انگریزوں نے باوا صاحب کے اسلام کا صاف اقرار کر دیا ہے اور ہماری طرح یہی رائے لکھی ہے کہ باوا نانک صاحب درحقیقت مسلمان تھے۔ چنانچہ
ہم ذیل میں بطور نمونہ پادری ہیوز صاحب کی رائے باوانانک صاحب کی نسبت لکھتے ہیں جن کی نظر ڈاکٹر ٹرمپ صاحب کے ترجمہ پر بھی گذر چکی ہے اور جنہوں نے اور بہت سی تحقیقات بھی
علاوہ اس کے کی ہے ناظرین کو چاہئے کہ اس کو غور سے پڑھیں اور وہ یہ ہے۔
ہیوز ڈکشنری آف اسلام صفحہ ۵۸۳ و ۵۹۱
سکھوں کی ابتدائی روایات کو بغور پڑھنے سے پختہ طور پر ثابت
ہوتا ہے کہ نانک نے درحقیقت ایسا مذہب بایں غرض ایجاد کیا کہ اسلام اور ہندو مذہب میں مصالحت ہو جائے۔ جنم ساکھیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اوائل عمر میں نانک )بایں کہ ہندو تھا( صوفیوں کی
تاثیر سے سخت متاثر ہوا اور ان صوفیوں کی پاک صاف طرز زندگی نے جو ان دنوں بکثرت شمالی ہند اور پنجاب میں منتشر تھے بڑا گہرا اثر اس پر کیا اس بات سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ جس
ہندو پر اہل اسلام کی تاثیر ہوگی اس کے کوائف میں تصوف کے نشان پائے جائیں گے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سکھوں کے گروؤں کی تعلیمات میں ہم صاف صاف تصوف کی آمیزش پاتے ہیں اور اس میں
شک نہیں کہ پہلے گورو فقراء کے لباس اور وضع میں زندگی بسر کرتے تھے اور اس طریق سے صاف ظاہر کرتے تھے کہ مسلمانوں کے فرقہ صوفیہ سے ہمارا تعلق ہے تصاویر میں انہیں ایسا دکھایا
گیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گلدستے ان کے ہاتھوں میں ہیں )جیسے مسلمانوں کا طریق تھا( اور طریق ذکر کے ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ نانک کی نسبت جو روایات جنم ساکھی میں محفوظ ہیں۔ پوری
شہادت دیتی ہیں کہ اسلام سے اس کا تعلق تھا۔ مذکور الصدر )نواب دولت خان قاضی اور نانک کی گفتگو( بیان سے صاف پایا جاتا ہے کہ نانک کے پہلے بلا فصل خلفاء یقین رکھتے تھے کہ نانک اسلام
سے