پنڈؔ ت دیانند کی باوانانک صاحب کی
نسبت رائے
ہم پہلے اس سے پنڈت دیانند کے ان تمام اعتراضات کا جواب دے
چکے ہیں جو اس نے باوا صاحب کی نسبت اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں لیکن اس وقت ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس کی وہ تمام عبارت جو باوا صاحب کے متعلق ستیارتھ پرکاش میں ہے
سکھ صاحبوں کے ملاحظہ کیلئے اس جگہ تحریر کر دیں تا معلوم ہو کہ پنڈت دیانند اور ان کے پیرو آریہ درحقیقت باوا صاحب کی عزت اور بزرگی کے ذاتی دشمن ہیں اور تا وہ اس بات پر غور کریں
کہ ہم نے باوا صاحب کی نسبت جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی کمال معرفت اور سچے گیان کے مناسب حال ہے لیکن دیانند نے اس بات پر بہت زور مارا ہے کہ تا خواہ نہ خواہ باوا صاحب کو نادان اور
گیان اور ودیا سے محروم ٹھہراوے مگر یہ درحقیقت اس کی غلطی ہے جو اس کی دلی تاریکی کی وجہ سے اس پر غالب آگئی ہے سچا گیان اور سچی معرفت انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے
سے ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ دیانند کا کلام باوجود اس دعوے وید دانی کے نہایت بے برکت اور خشک اور سچی معرفت اور گیان سے ہزاروں کوس دور اور بات بات میں خود پسندی اور تکبر اور
سطحی خیال کی بدبوؤں سے بھرا ہوا ہے لیکن باوا صاحب کا کلام ایسے شخص کا کلام معلوم ہوتا ہے جس کے دل پر درحقیقت خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق نے غلبہ کیا ہوا ہے اور ہریک شعر توحید
کی خوشبو سے بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے دیانند کی کلام پر نظر ڈال کر فی الفور دل گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص ایک موٹے خیال کا آدمی اور صرف لفظ پرستی کے گڑھے میں گرفتار اور فقر اور جوگ کے
سچے نور سے بے نصیب اور محروم ہے لیکن باوا صاحب کی کلام پر نگاہ کر کے یقین آجاتا ہے کہ اس شخص کا دل الفاظ کے خشک بیابان کو طے کر کے نہایت گہرے دریائے محبت الٰہی میں غوطہ
زن ہے پس باوا صاحب کی مثال دیانند کے ساتھ ایک ہرے بھرے باغ اور خشک لکڑی کی مثال ہے ہمارے یہ کلمات نہ کسی کی خوشامد کیلئے اور نہ کسی کو رنج دینے