سمجھتےؔ تھے تو پھر یہ شعر ان کے مشرب کے مخالف کیوں ہوا افسوس کہ ٹرمپ صاحب نے اس بات سے بھی آنکھیں بند
کرلیں کہ باوا صاحب گرنتھ میں خود اقرار کرتے ہیں کہ بغیر کلمہ پڑھنے کے بخت بیدار نہیں مل سکتا اور بغیر درود پڑھنے کے آخرت کے برکات حاصل نہیں ہو سکتیں۔ اور جنم ساکھی کلاں کے وہ
اشعار بھی ٹرمپ کو یاد نہ رہے جس میں لکھا ہے کہ وہ لوگ *** ہیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ کیا یہ تمام اشعار ٹرمپ صاحب کی نظر سے نہیں گذرے تعجب کہ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب خود اپنے ہاتھ کی
تحریروں کے برخلاف رائے ظاہر کر رہے ہیں اور گو اُن کا بیان ہے کہ میں نے سات برس محنت کر کے گرنتھ کا ترجمہ لکھا ہے مگر ان کی رائے ایسی ہلکی اور خفیف اور سطحی ہے کہ اگر ایک
گہری نگاہ کا آدمی سات دن بھی اس بارے میں کوشش کرے تو بے شک اس کی مخالفانہ رائے ان کے سات برس کی رائے پر غالب آجائے گی۔ ہمیں ٹرمپ صاحب کے بیان پر نہایت افسوس آیا ہے کہ وہ
اقرار کے ساتھ پھر انکار کو جمع کرتے ہیں اور اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے جس تک ایک صاف دل اور محقق آدمی پہنچ جاتا ہے بہرحال ہم نے ان کی وہ شہادت جس نے ان کو نہایت گھبراہٹ میں ڈال
دیا ہے انہیں کی کتاب میں سے نقل کر کے اس جگہ لکھ دی ہے یعنی باوا صاحب کا یہ مقولہ کہ بغیر شفاعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو نجات نہیں ملے گی ایسی باتوں کو یقینی
طور پر قبول کرنے کیلئے یہ قرینہ کافی ہے کہ یہ تمام کتابیں سکھ صاحبوں کی قلم سے نکلی ہیں اور وہ کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ باوا صاحب کے اسلام کی نسبت کوئی اشارہ
بھی ان کی کتابوں میں پایا جائے پس جو کچھ برخلاف منشاء ان کی کتابوں میں اب تک موجود ہے یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہ باتیں باوا صاحب کی نہایت یقینی تھیں اور بہت شہرت پا چکی تھیں
اسلئے وہ لوگ باوجود سخت مخالفت کے پوشیدہ نہ کر سکے اور نہ اپنی کتابوں سے مٹا سکے اور بہرحال ان کو لکھنا پڑا مگر ان کا درجہ ثبوت کم کرنے کیلئے یہ دوسری تدبیر ان کو سوجھی کہ ان
کے مخالف باتیں بھی لکھ دیں پس اس صورت میں وہ