کا لحاؔ ظ نہیں کیا تھا سو ہم لوگ آپ کے دلی انصاف سے وہی امید رکھتے ہیں جس کا نمونہ آپ صاحبوں کے معزز بزرگوں
اور حلیم مزاج گوروؤں سے ہمارے بھائی دیکھ چکے ہیں اور آپ صاحبوں پر یہ پوشیدہ نہیں کہ یہ رائے ہماری کچھ جدید رائے نہیں جس صورت میں ان روشن ضمیر بزرگوں نے اس رائے کو نفرت
کی نگاہ سے نہیں دیکھا جن کے سامنے یہ واقعات موجود تھے بلکہ مسلمانوں کے دعویٰ کو قبول کیا۔ تو آپ صاحبوں کو بہرحال ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور مجھ سے پہلے یہی رائے بڑے بڑے
محقق انگریز بھی دے چکے ہیں اور وہ کتابیں برٹش انڈیا میں شائع بھی ہو چکی ہیں ہاں ہم نے تمام دلائل کو اس رسالہ میں جمع کر دیا ہے۔ غرض ہماری یہ رائے ہے جو نہایت نیک نیتی سے کامل
تحقیقات کے بعد ہم نے لکھی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ انکار کے وقت جلدی نہ کریں اور ان عالیشان بزرگوں کو یاد کریں جو آپ سے پہلے فیصلہ دے چکے ہیں اور نیز آپ ان حلیم بزرگوں کے
بزرگ اخلاق یاد کریں جنہوں نے دعویدار مسلمانوں کو درشتی سے جواب نہ دیا اور مسلمانوں کی رائے کو رد نہ کیا اور یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ نعوذ باللہ انہوں نے منافقانہ کارروائی کی ہو اور
مسلمانوں کو خوش کر دیا ہو کیونکہ وہ لوگ خدا ترس اور خدا سے ڈرنے والے اور خدا پر بھروسہ رکھنے والے تھے وہ مخلوق کی کیا پرواہ رکھتے تھے خاص کر ایسے موقعہ پر ہمیشہ کیلئے ایک داغ
کی طرح ایک الزام باقی رہ سکتا تھا بلکہ درحقیقت وہ دلوں میں سمجھتے تھے کہ باوا صاحب کا ہندوؤں سے تو فقط یہ تعلق تھا کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوئے اور مسلمانوں سے یہ تعلقات تھے کہ
درحقیقت باوا صاحب اسلامی برکتوں کے وارث ہوگئے تھے اور ان کا اندر اس وحدہ لاشریک کی معرفت اور سچے کرتار کی محبت سے بھر گیا تھا جس کی طرف اسلام بلاتا ہے اور وہ اس نبی کے
مصدق تھے جو اسلام کی ہدایت لے کر آیا تھا۔ اسی واقعی علم کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو رد نہ کر سکے۔ غرض پہلے ہمارے بھائیوں نے تو ان بزرگوں کے اخلاق کا نمونہ دیکھا اور اب ہم آپ
صاحبوں کے اخلاق کا عمدہ نمونہ دیکھنے کیلئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور اس بات کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم باوا صاحب کی خوبیوں اور بزرگیوں کو مسلمانوں میں شائع کرنا چاہتے ہیں
اور یقیناً یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے