کہؔ ہماری اس تحریر سے جو حق اور اصل حقیقت پر مشتمل ہے نیک طبع اور سعادت مند مسلمانوں میں صلح کاری اور مدارات کا مادہ آپ لوگوں کی نسبت ترقی کرے گا اور محبت اور اتفاق جس کے بغیر دنیوی زندگی کا کچھ بھی لطف نہیں روز بروز زیادت پذیر ہوگی اور ہمیں باوا صاحب کی بزرگیوں اور عزتوں میں کچھ کلام نہیں اور ایسے آدمی کو ہم درحقیقت خبیث اور ناپاک طبع سمجھتے ہیں جو ان کی شان میں کوئی نالائق لفظ منہ پر لاوے یا توہین کا مرتکب ہو۔ ہم اس بات کو بھی افسوس سے لکھنا چاہتے ہیں کہ جو اسلامی بادشاہوں کے وقت میں سکھ صاحبوں سے اسلامی حکومتوں نے کچھ نزاعیں کیں یا لڑائیاں ہوئیں تو یہ تمام باتیں درحقیقت دنیوی امور تھے اور نفسانیت کے تقاضا سے ان کی ترقی ہوئی تھی اور دنیا پرستی نے ایسی نزاعوں کو باہم بہت بڑھا دیا تھا مگر دنیا پرستوں پر افسوس کا مقام نہیں ہوتا بلکہ تاریخ بہت سی شہادتیں پیش کرتی ہے کہ ہریک مذہب کے لوگوں میں یہ نمونے موجود ہیں کہ راج اور بادشاہت کی حالت میں بھائی کو بھائی نے اور بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ ایسے لوگوں کو مذہب اور دیانت اور آخرت کی پرواہ نہیں ہوتی اور وہ لوگ دنیا میں بہت ہی تھوڑے گذرے ہیں جو حکومتوں اور طاقتوں کے وقت میں اپنے غریب شریکوں یا پڑوسیوں پر ظلم نہیں کرتے اور ظاہر ظاہر یا پوشیدہ عملی حکمتوں سے دوسری ریاستوں کو تباہ اور نیست و نابود کرنا نہیں چاہتے اور ان کے کمزور اور ذلیل کرنے کی فکر میں نہیں رہتے مگر ہریک فریق کے نیک دل اور شریف آدمی کو چاہئے کہ خود غرض بادشاہوں اور راجوں کے قصوں کو درمیان میں لاکر خواہ نہ خواہ ان کے بیجا کینوں سے جو محض نفسانی اغراض پر مشتمل تھے۔ آپ حصہ نہ لے وہ ایک قوم تھی جو گذر گئی ان کے اعمال ان کیلئے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی کھیتی میں ان کے کانٹوں کو نہ بوئیں اور اپنے دلوں کو محض اس وجہ سے خراب نہ کریں کہ ہم سے پہلے بعض ہماری قوم میں سے ایسا کام کر چکے ہیں ہاں اگر ہم باوجود اپنی دلی صفائی اور سچائی کے اور باوجود اس کے کہ اپنے غیب دان خدا کے روبرو صادق اور قوموں کے ہمدرد ہوں اور کوئی بد اندیشی اور کھوٹ ہمارے دل میں نہ ہو پھر بھی کھوٹوں اور بد اندیشوں اور مفسدوں میں سے شمار کئے