دےؔ کر آپ چاہا کہ وہ لوگ اپنے خیال کو پورا کریں تو اب ہم منصف مزاج سکھ صاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ جو تحریر پرچہ خیر خواہ عام امرت سر مرقومہ ۲۶ ؍اکتوبر ۱۸۹۵ء میں اس مضمون کی چھپی ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ ست بچن کا زہر اگلا ہوا ایک نئی رست خیزکے باعث ہو اور ایک دوسرے ۱۸۵۷ء کا پیش خیمہ ہو۔ کیا یہ ان بزرگوں کی رائے اور خیال کے موافق ہے جنہوں نے جانشینی کے پہلے موقعہ میں ہی نہایت نرمی سے یہ فیصلہ دیا کہ مسلمان اپنے زعم اور خیال کے موافق باوا صاحب کی گور منزل کریں اور ہندو اپنے زعم کے موافق کریں تو کیا اس فیصلہ کا خلاصہ مطلب یہ نہیں تھا کہ باوا نانک صاحب کی نسبت ہریک شخص ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اپنی رائے زنی میں آزا دہے۔ جو لوگ باوا صاحب کو مسلمان خیال کرتے ہیں وہ مسلمان خیال کریں جنازہ پڑھیں ان کا اختیار ہے اور ہندو جو کریں ان کا اختیار۔ پھر جبکہ باوا صاحب کے بعد پہلی جانشینی کے وقت میں ہی پہلے جانشیں اور مہاتما آدمیوں کے عہد میں جو بیشک خداترسی اور عقلمندی اور حقیقت فہمی اور واقعہ شناسی میں آپ صاحبوں سے ہزار درجہ بڑھ کر تھے یہ فیصلہ ہوا جو اوپر لکھ چکا ہوں تو پھر ایسی مقدس چیف کورٹ کے فیصلہ سے جس کی صداقت پر آپ کو بھروسہ چاہئے تجاوز کرکے اس عاجز کی اس رائے کو ہنگامہ محشر کا نمونہ سمجھنا کیا ایسا کرنا اچھے اور شریف آدمیوں کو مناسب ہے اے معزز سکھ صاحبان! آپ یاد رکھیں کہ یہ وہی مسلمانوں کی طرف سے مدلل دعویٰ ہے جس کی ڈگری آپ کے خدا ترس بزرگ مسلمانوں کو دے چکے ہیں اور ان کے حق میں اپنی قلم سے فیصلہ کر چکے ہیں اب ساڑھے تین سو برس کے بعد آپ کے یہ عذر معذرت خارج از میعاد ہے کیونکہ مقدمہ ایک بااختیار عدالت سے انفصال پا چکا ہے اور وہ حکم قریباً چار۴۰۰ سو برس تک واقعی اور صحیح مانا گیا ہے اور آج تک کوئی جرح یا حجت اس کی نسبت پیش نہیں ہوئی تو کچھ شک نہیں کہ اب وہ ایک ناطق فیصلہ قرارپا گیا جس کی ترمیم تنسیخ آپ کے اختیار میں نہیں۔ آپ لوگ ان بزرگوں کے جانشین ہیں جو اس جھگڑے کے اول مرتبہ کے وقت مسلمان دعویداروں سے نہایت نرمی سے پیش آئے تھے اور ایک ذرہ بھی ہندوؤں