کیؔ معتبر کتابوں سے لکھا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی بیان کیا ہے کہ قیاس میں آتا ہے کہ کوئی مرید نعش کو پوشیدہ طور
پر نکال کر لے گیا ہوگا لیکن ایسے مورخوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ یہ عجیب قصہ باوا صاحب کی وفات کا اور پھر ان کی نعش کے گم ہونے کا حضرت مسیح علیہ السلام کے قصہ سے بہت ملتا ہے
کیونکہ یہی واقعہ وہاں بھی پیش آیا تھا اور حضرت مسیح کی نعش کے چورایا جانے کا اب تک یہودیوں کو شبہ چلا جاتا ہے چنانچہ انجیل متی ۲۷ باب ۶۲ آیت میں ہے کہ دوسرے روز جو تیاری کے
دن کے بعد ہی سردار کاہنوں اور فریسیوں نے مل کر پلاطس کے پاس جمع ہو کے کہا کہ (۶۳) اے خداوند ہمیں یاد ہے کہ وہ دغا باز (یعنی حضرت مسیح) اپنے جیتے جی کہتا تھا کہ میں تین دن
بعد جی اٹھوں گا۔ (۶۴) اسلئے حکم کر کہ تیسرے دن تک قبر کی نگہبانی کریں۔ نہ ہو کہ اس کے شاگرد رات کو آکر اسے چرالے جائیں اور لوگوں سے کہیں کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے تو یہ
پچھلا فریب پہلے سے بدتر ہوگا۔ غرض جب اسی الزام کے نیچے عیسائی صاحبوں کا عقیدہ بھی ہے تو پھر باوانانک صاحب کے قصہ پر یہ اعتراض بے جا ہے بالخصوص جب باوا صاحب کے گرنتھ
میں اس قسم کے شعر بھی پائے جاتے ہیں کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی محبت میں مرے ہوئے ہوں وہ پھر بھی زندہ ہو جایا کرتے ہیں تو ایسے شعر ان کے اس واقعہ کے اور بھی مو ّ ید ٹھہرتے ہیں۔ اگر یہ
خیال درست بھی ہو کہ در پردہ کوئی مرید باوا صاحب کی نعش نکال کر لے گیا تھا۔ تو کچھ شک نہیں کہ ایسا مرید کوئی مسلمان ہوگا۔ اس پر ایک قرینہ قویہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک جھوٹی قبر بنانا
اور صرف کپڑا دفن کرنا اور اس کو قبر سمجھنا ایک فریب اور گناہ میں داخل ہے مسلمان ہرگز ایسا نہیں کر سکتے اور اگر ان کو صرف چادر ملتی تو وہ تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھتے اور ہرگز نہ
چاہتے کہ اس کو دفن کریں بجائے نعش کے چادر یا کسی اور کپڑہ کا دفن کرنا کسی جگہ اسلام میں حکم نہیں اور نہ قرآن اور حدیث میں اس کا کچھ نشان پایا جاتا ہے بلکہ یہ دجل اور فریب کے قسم میں
سے ہے جو شریعت اسلام میں کسی طرح جائز نہیں دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس وقت پنجاب میں حنفی مذہب کے مسلمان تھے اور حنفی مذہب کی رو سے بجز حاضری نعش کے نماز جنازہ درست نہیں
پھر ان حنفی مسلمانوں نے جبکہ باوا صاحب کی نماز جنازہ