پڑھیؔ تو اس صورت میں ماننا پڑتا ہے۔ کہ کسی طرح باوا صاحب کی نعش پر ان مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا اور پھر ہندوؤں
کے آنسو پوچھنے کیلئے اس قصہ کو پوشیدہ رکھا گیا۔ اسی لئے باوا صاحب کا کریاکرم ہونا ثابت نہیں مگر بالاتفاق جنازہ ثابت ہے اور باوا صاحب کی یہ پیشگوئی کہ میرا جنازہ پڑھا جائے گا اسی
صورت میں کامل طور پر تکمیل پاتی ہے کہ جب کہ نعش کی حاضری میں جیسا کہ عام دستور ہے جنازہ پڑھا گیا ہو لیکن یہ دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ باوا صاحب کی نعش ہرگز جلائی نہیں گئی۔
کیونکہ نعش کا جلانا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا۔ اگر نعش کو جلاتے تو باوا صاحب کے پھول بھی گنگا میں پہنچاتے یا کریاکرم بھی کرتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ پھر ایک تیسرا قرینہ یہ ہے کہ باوا
صاحب جنم ساکھی کلاں یعنی انگد کی جنم ساکھی میں دفن کئے جانا پسند کرتے ہیں اس سے صاف طور پر نکلتا ہے کہ باوا صاحب نے پوشیدہ طور پر دفن کئے جانے کیلئے اپنے مرید مسلمانوں کو
وصیت کی ہوگی کیونکہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے اس کے حاصل کرنے کیلئے تدبیر بھی کرتا ہے اور ایسے موقعہ پر بجز وصیت کے اور کوئی تدبیر نہیں۔
پھر ہم اصل مطلب کی طرف عود
کر کے لکھنا چاہتے ہیں کہ باوا صاحب کی وفات کے وقت جب بعض مسلمانوں نے باوا صاحب کے وارثوں کے پاس آکر جھگڑا کیا کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور ہم اسلام کے طور پر ان کی گور
منزل کریں گے تو جس قدر بزرگ باوا صاحب کے جانشینوں اور دوستوں اور اولاد میں سے وہاں بیٹھے تھے کوئی ان کی بات پر ناراض نہ ہوا۔ اور کسی نے اٹھ کر یہ نہ کہا کہ اے نالائقو! نادانو اور
آنکھوں کے اندھو اور بے ادبو!!! یہ تم کیسے بکواس کرنے لگے۔ کیا باوا صاحب مسلمان تھے تا ان کی نعش ہم تمہارے سپرد کر دیں اور تم اس پر جنازہ پڑھو اور دفن کرو۔ اے احمقو!!! کیا
تمہیں معلوم نہیں وہ تو اسلام کے سخت دشمن تھے اور تمہارے نبی کو جس کی شرع کی رو سے تم جنازہ
نوٹ۔ جنم ساکھی کلاں صفحہ ۲۰۲۶ میں باوا صاحب کا یہ شعر قبر کے بارے میں
ہے
داغ پوتر دہر تری جو دہرتی ہوے سمائے تان نکٹ نہ آوے دوزخ سندی بھا
یعنی جو لوگ داغ سے پاک ہوکر قبر میں داخل ہوئے دوزخ کی بھاپ ان کے نزدیک بالکل نہیں آئے گی۔ منہ