طریقؔ پر دفن کریں۔ اور اپنے مذہب کے رو سے جنازہ وغیرہ جو کچھ مذہبی امور ہوں بجا لاویں تو اس کی وہ بات سخت
اشتعال کا موجب ہوگی اور کچھ تعجب نہیں کہ قوم مشتعل ہوکر اس گستاخ اور بے ادب کو مار پیٹ کر کے نہایت ذلت سے سزا دیں کیونکہ ایسا دعویٰ صرف شخص متوفی کی ذات پر ہی مؤثر نہیں بلکہ
اس دعویٰ سے ساری قوم کی سبکی ہوتی ہے اور نیز اس مذہب کی توہین بھی متصوّ ر ہے۔ اب ہم جب دیکھتے ہیں کہ باوا نانک صاحب کی وفات پر کوئی اس قسم کا ماجرا پیش آیا یا نہیں اور اگر پیش آیا
تو قوم کے بزرگوں نے اس وقت کیا کیا تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان کی وفات کے وقت ہندو مسلمانوں کا ضرور جھگڑا ہوا تھا۔ ہندو باوا صاحب کی نعش کو جلانا چاہتے تھے اور مسلمان ان کے اسلام
کے خیال سے دفن کرنے کیلئے اصرار کرتے تھے اس تکرار نے ایسا طول کھینچا کہ جنگ تک نوبت پہنچی انگریزی مورخ سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے آکر نہایت زور کے ساتھ
دعویٰ کیا کہ باوا صاحب ہم میں سے تھے ان کی نعش ہمارے حوالہ کرو۔ تا اسلام کے طریق پر ہم ان کو دفن کریں۔ پھر تعجب یہ کہ باوا صاحب کی قوم کے بزرگوں میں سے جن کے سامنے یہ دعویٰ
ہوا اس بات کا ردّ کوئی بھی نہیں کر سکا کہ ایسا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے بلکہ قوم کے بزرگ اور دانشمندوں نے بجائے رد کے یہ بات پیش کی کہ باوا صاحب کی نعش چادر
کے نیچے گم ہوگئی ہے اب ہندو مسلمان نصف نصف چادر لے لیں اور اپنی اپنی رسوم ادا کریں۔ چنانچہ مسلمانوں نے نصف چادر لے کر اس پر نماز جنازہ پڑھی اور دفن کردیا* اور ہندوؤں نے دوسرے
نصف کو جلا دیا۔ یہ انگریزی مورخوں نے سکھ صاحبوں
* نوٹ۔ باوا صاحب کا جنازہ پڑھا جانا بہت قرین قیاس ہے کیونکہ گرنتھ صاحب میں ایک شعر ہے جس میں باوا صاحب نے بطور پیشگوئی
کے اپنا جنازہ پڑھے جانے کے بارہ میں فرما دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔
دنیا مقام فانی تحقیق دل دانی۔ مم سرمو عزرائیل گرفتہ دل ہیچ ندانی۔ زن پسر پدر برادران کس نیست دستگیر۔ آخر بیفتم
کس ندارد و چوں شود تکبیر۔ یعنی دنیا فنا کا مقام ہے یہ تحقیقی بات ہے اس کو دل سے سمجھ۔ میرے سر کے بال عزرائیل کے ہاتھ میں ہیں اے دل تجھے کچھ بھی خبر نہیں عورت لڑکا باپ بھائی کوئی
بھی دستگیری نہیں کر سکتا۔ آخر جب تکبیر یعنی نماز جنازہ میرے پر پڑھی جائے گی تو میں اس وقت بیکس ہوں گا اور بیکس ہوکر گرا ہوا ہوں گا۔ اب تکبیر کا لفظ ایسا کھلا ہے کہ ہریک جانتا ہے کہ
موت کے وقت تکبیر انہیں کیلئے ہوتی ہے جن کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ منہ