انؔ کے گھر سے نہ کوئی وید نکلا اور نہ کوئی شاستر برآمد ہوا اور نہ وہ گرنتھ کے اشعار اپنے گھر میں لکھ کر چھوڑ گئے اور نہ کسی دیوتے یا دیوی کی مورت برآمد ہوئی نکلا تو چولہ صاحب نکلا جس کی تمام زمین زری کے کام کی طرح قرآنی آیات سے بھری ہوئی ہے۔ باوا صاحب سے سچی محبت کرنے والوں کو چاہئے کہ اس بات کو ردی کی طرح پھینک نہ دیں۔ اگر چولہ صاحب ُ پر برکت یادگار نہ ہوتی تو کبھی کا ضائع ہو جاتا ایک طرف چولہ صاحب کو دیکھئے اور دوسری طرف انگد صاحب کی جنم ساکھی نے اس بات کو تصدیق کرلیا ہے کہ جو کلام چولہ پرلکھا ہوا ہے وہ قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔ اب سوچ لو کہ جو قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا وہ کس کا کلام ہوا خدا کا یا انسان کا۔ غرض بھائی بالا صاحب کی جنم ساکھی جو اسی زمانہ میں لکھی گئی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے پس کیا اس سے زیادہ کوئی اور بھی ثبوت ہوگا کہ چولہ صاحب اس وقت سے اب تک موجود ہے اور انگد صاحب کی جنم ساکھی بھی اس وقت سے اب تک موجود ہے ہم اپنے گھر سے کوئی چیزپیش نہیں کرتے۔ چولہ صاحب بھی آپ کے پاس موجود ہے اور جنم ساکھی انگد صاحب کی بھی آپ کے پاس موجود ہے۔ آپ چاہو رد کرو خواہ قبول کرو۔ باوا نانک صاحب کی وفات کے متعلق بعض واقعات جبکہ ہم نے نہایت پختہ دلائل سے باوا صاحب کا اسلام اس کتاب میں ثابت کیا تو یہ بھی قرین مصلحت دیکھا کہ باوا صاحب کے وقت وفات پر بھی کچھ بحث کی جائے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس شخص نے اپنے مذہبی عقائد سے ہاتھ نہ دھویا ہو اور اپنی قوم کے پرانے عقیدہ پر پختہ ہو اور اسی پر اس کا انتقال ہو تو اس کے اخیر وقت پر جو اس کی زندگی کے دائرہ کا آخری نقطہ ہے ہریک خویش و بیگانہ معلوم کرلیتے ہیں جو اپنی قوم کے مذہب پر ہی اس کا خاتمہ ہوا۔ اگر کوئی غیر شخص اس کے فوت ہونے کے وقت خواہ نخواہ اس کی قوم کا جاکر مزاحم ہو کہ یہ شخص ہمارے مذہب میں تھا اس کی لاش ہمارے حوالہ کرو تا اس کو ہم اپنے