یہ بھیؔ ثابت نہیں کہ پرمیشر توبہ قبول کرلیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے یہ تو عقیدہ اسلام کا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ یعنی انسان کہتا ہے کہ ایسی ہڈیوں کو کون نئے سرے زندہ کرے گا جو سڑ گل گئی ہوں ان کو کہہ دے وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہریک طور سے پیدا کرنا جانتا ہے گناہوں کو بخشتا اور توبہ قبول کرتا ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ ۳؂ یعنی تم اس خدا سے کیوں انکار کرتے ہو جس نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخشی پھر تمہیں موت دیگا اور پھر زندہ کرے گا اور پھر اس کی درگاہ میں حاضر کئے جاؤ گے۔ غرض باوا صاحب کا تمام کلام اسلام کے عقیدے سے ملتا ہے اور اگر کوئی شخص بشرطیکہ متعصب نہ ہو ایک سرسری نظر سے بھی دیکھے تب بھی وہ حق الیقین کی طرح سمجھ جائے گا کہ باوا صاحب کا کلام قرآنی تعلیم اور قرآنی حقائق معارف کے رنگ سے رنگ پذیر ہے اور وہ تمام ضروری عقیدے اسلام کے جو قرآن شریف میں درج ہیں باوا صاحب کے کلام میں مذکور ہیں۔ پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر باوا صاحب نے وید کو ترک کرنے کے بعد اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا تھا تو پھر انہوں نے اسلام کے عقیدے کیوں اختیار کر لئے تمام جہان کی کتابیں اکٹھی کر کے دیکھو باوا صاحب کے اشعار اور ان کے منہ کی باتیں بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کے ساتھ مطابقت نہیں کھائیں گی اور اسی پر بس نہیں بلکہ باوا صاحب نے تو علانیہ کہہ دیا کہ بجز متابعت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کسی کی نجات نہیں چنانچہ ہم ابھی اس رسالہ میں بعض محقق انگریزوں کی شہادت بھی اس بارہ میں پیش کریں گے اور ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کی اصل سوانح دریافت کرنے کیلئے چولہ صاحب نہایت عمدہ رہنما ہے جس پر صدہا سال سے اتفاق چلا آتا ہے باوا صاحب کی وفات کے بعد