یعنیؔ مقدر ہے اور ایسا ہی اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔۱؂ یعنی خدا جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ آپے نیڑے دور آپے منجھ میان آپے دیکھے سُنے آپے قدرت کرے جہان یعنی وہ آپ ہی نزدیک ہے اور آپ ہی دور ہے اور آپ ہی درمیان ہے اور آپ ہی دیکھتا سنتا اور آپ ہی قدرت سے جہان بنایا۔ اب ناظرین دیکھیں اور سوچیں کہ اس اعتقاد کو وید کے اعتقاد سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ وید کا یہ اعتقاد ہرگز نہیں کہ تمام جہان کو خدا نے قدرت سے پیدا کیا یہ تعلیم اسی کتاب کی ہے جس میں یہ لکھا ہے۔ ۲؂ یعنی سب تعریفیں اللہ کی ذات کو ہیں جس نے تمام عالم پیدا کئے اور اسی نے فرمایا۔ ۔ یعنی وہ پہلے بھی ہے اور پیچھے بھی اور ظاہر بھی ہے اور چھپا ہوا بھی وہ آسمان میں ہے یعنی دور ہے اور زمین میں ہے یعنی نزدیک ہے اور جب میرے پرستار تجھ سے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں یعنی دوستوں کیلئے نزدیک اور دشمنوں کے لئے دور اور جانوں کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان آ جاتا ہے یعنی جیسا کہ دور اور نزدیک ہونا اس کی صفت ہے۔ ایسا ہی درمیان آجانا بھی اس کی صفت ہے۔ پھر باوا نانک صاحب گرنتھ صاحب میں ایک شبد میں فرماتے ہیں۔ توں مار جوالیں بخش ملا جیون بھاویں تیون نام جپا یعنی تو مار کر زندہ کرنے والا ہے اور گناہ بخش کر پھر اپنی طرف ملانے والا جس طرح تیری مرضی ہو اسی طرح تو اپنی پرستش کراتا ہے۔ اب ہریک شخص سوچ لے کہ یہ عقیدہ اسلام کا ہے یا آریوں کا آریہ صاحبان بھی اگر چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ وید کی رو سے جی اٹھنا ثابت نہیں اور نیز