یعنیؔ ہریک چیز فنا ہونے والی ہے اور ایک ذات تیرے رب کی رہ جائے گی۔ اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ گورمکھ تو ل تلاسی سچ تُرا جی تول اسامنسا موہنی گورٹھا کے سچ بول یعنی خدا سچے ترازو سے تولے گا پورا پورا تول۔ اور امید اور طول امل تجھ کو برباد کر رہے ہیں ایک خدا کو مضبوط پکڑلے اور سچ بول۔ اب دیکھو باواصاحب نے وہ عقیدہ اس جگہ ظاہر کیا ہے جو قرآن نے مسلمانوں کو عقیدہ سکھلایا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں وارد ہے۔ یعنی اس دن اعمال تو لے جائیں گے اور ایک تاگے کے برابر کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔ اے وے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور وہ باتیں کیا کرو جو سچی اور راست اور حق اور حکمت پر مبنی ہوں۔ اور خدا کو یاد کر اور اس کی طرف جھکا رہ۔ اور پھر باوانانک صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ ورناں ورن بھانے جے کئی وڈاکرے اے وڈے ہتھ وڈیاں جے بھاوے تن دے یعنی طرح طرح کی اس کی تقدیر ہے جس کو چاہے بڑا کرے اسی بڑے کے ہاتھ بڑائیاں ہیں جس کو چاہے دیدے۔ اب دیکھو ایسے طور سے تقدیر کو ماننا خاص اسلام کا اعتقاد ہے اور یہی تعلیم تمام قرآن میں بھری پڑی ہے اور ہریک عزت اور ذلت خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے جس کو چاہتا ہے عزیز بنا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے مگر وید کے ماننے والوں کا یہ ہرگز اعتقاد نہیں وہ تو انسان کے ذرہ ذرہ رنج اور راحت کو کسی پہلے نامعلوم جہنم* کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ۔۵؂ یعنی آپ خدا نے ہریک چیز کو پیدا کیا اور اس کا اندازہ بھی آپ اپنے اختیار سے مقرر کر دیا اور نیز فرماتا ہے۔ ۶؂ یعنی کوئی حادثہ نہ زمین پر نازل ہوتا ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ سب لکھا ہوا ہے۔