دیاؔ وان دیال توں کر کر دیکھیں ہار دیا کریں پربھ میل لہہ کہن میں ڈاہ اسار
یعنی تو مہربان دینے والا ہے اور کر کر کے
دیکھتا ہے اگر تو مہربانی کرے تو اپنے ساتھ میل لے ایک لمحہ میں ٹہادے اور اسارے یہ شعر باوا صاحب کا اس آیت قرآنی کے مطابق ہے۔
۲ یعنی خدا جس کو چاہتا ہے اس کو اپنی طرف کھینچ
لیتا ہے اور جو اس کی طرف جھکتا ہے اس کو وہ راہ دکھاتا ہے ہریک دن وہ ہریک کام میں ہے کسی کو بلاوے اور کسی کو رد کرے اور کسی کو آباد کرے اور کسی کو ویران کرے اور کسی کو عزت دے
اور کسی کو ذلت دے اور پھر باوانانک صاحب کا ایک یہ شعر بھی ہے۔
تیاگی من کی متڑی و ساری دوجی بھاوجی او
ایتو پاوے ہر دساور نہ لگے تتی واو جیو
یعنی دل کی خواہش کو ترک کر
دیوے دوسرا خیال چھوڑ دیوے اس طرح خدا کا دیدار پاوے تو اس کو ہوا گرم نہ لگے۔ یہ شعر اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے۔یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کا دیدار چاہتا ہے چاہئے کہ وہ ایسے کام کرے
جن میں فساد نہ ہو یعنی ایک ذرہ متابعت نفس اور ہوا کی نہ ہو اور چاہئے کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرے نہ نفس کو نہ ہوا کو اور نہ دوسرے باطل معبودوں کو اور پھر دوسری جگہ
فرماتا ہے ۴ یعنی جو شخص خدا سے ڈرے اور اپنے نفس کو اس کی نفسانی خواہشوں سے روک لیوے۔ سو اس کا مقام جنت ہوگا جو آرام اور دیدار الٰہی کا گھر ہے اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں
فرماتے ہیں۔
سب دنیا آون جاونی مقام ایک رحیم
یعنی تمام دنیا فنا ہونے والی ہے ایک خدا باقی رہے گا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بالکل اس آیت کے مطابق ہے کہ