دکھ ؔ بھاگ جائے گا یہ تمام شبد اس آیت قرآنی کا ترجمہ ہے۔۲ یعنی جو لوگ خدا کے ہو رہتے ہیں۔ ان کو کسی کا خوف باقی
نہیں رہتا اور وہ غم نہیں کرتے سو تم خدا تعالیٰ کی طرف بھاگو۔
اسی طرح ایک اور شعر باواصاحب کا ہے اور وہ یہ ہے۔
شبد مرے سو مر رہے پھر مرے نہ دو جی وار
شبد ہی تین پائی
ہرنامے لگے پیار
یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام کی پیروی میں مر رہے ایسے لوگ پھر نہیں مریں گے خدا کی کلام سے خدا ملتا ہے اور اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ یہ شعر باوا صاحب کا ان
آیات سے لیا گیا ہے۔۔۴
یعنی متقی امن کے مقام میں آگئے وہ بجز پہلی موت کے جو ان پر وارد ہوگئی پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور خدا ان کو جہنم کے عذاب سے بچائے گا اس میں بھید یہ
ہے کہ مومن متقی کا مرنا چارپایوں اور مویشی کی طرح نہیں ہوتا بلکہ مومن خدا کیلئے ہی جیتے ہیں اور خدا کیلئے مرتے ہیں اسلئے جو چیزیں وہ خدا کیلئے کھوتے ہیں ان کو وہ واپس دی جاتی ہیں
جیسا کہ امام المومنین سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلمکے حق میں اللہ جلّ شانہٗ نے فرمایا۔۵ یعنی کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور اسی
بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔
یعنی جو لوگ میری کلام کی پیروی کریں نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں سو یہ موتیں اور ذلتیں جو دنیا پرستوں پر آتی ہیں۔ ان
موتوں کے خوف سے وہ لوگ رہائی پا جاتے ہیں۔ جو کہ خود رضائے الٰہی میں فانی ہو کر روحانی طور پر موت قبول کرلیتے ہیں پھر ایک شعر میں باوا صاحب فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے۔