کہؔ باوا صاحب نے یہ تمام شبد انہیں آیتوں سے نقل کئے ہیں قبول نہ کرنا اور دانستہ ضد کرنا یہ اور بات ہے ورنہ باوا صاحب کا منشاء آفتاب کی طرح چمک رہا ہے کہاں تک اس کو کوئی چھپاوے اور کب تک اس کو کوئی پوشیدہ کرے اور پھر ایک اور شبد میں باوا صاحب فرماتے ہیں۔ پوچھ نہ ساجی پوچھ نہ ڈھائی پوچھ نہ دیوے لئے اپنی قدرت آپے جانے آپے کرن کرے سبناں دیکھے ندرکرے َ جے بھاوے تین دے یعنی نہ پوچھ کر وہ بناتا ہے اور نہ پوچھ کر وہ فنا کرتا ہے اپنی قدرت آپ ہی جانے اور آپ ہی کاموں کا کرنے والا ہے سب کو دیکھتا ہے نظر کرتا ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اب پوشیدہ نہ رہے کہ یہ شبد مفصلہ ذیل آیات سے لیا گیا ہے۔ یعنی خدا اپنے کاموں کا آپ ہی وکیل ہے کسی دوسرے کو پوچھ پوچھ کر احکام جاری نہیں کرتا اسکا کوئی بیٹا نہیں اور اسکے ملک میں اسکا کوئی شریک نہیں اور ایسا کوئی اسکا دوست نہیں جو درماندہ ہوکر اس نے اسکی طرف التجا کی اسکو نہایت بلند سمجھ اور اسکی نہایت بڑائی کر۔ اللہ باریک نظر سے اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے جسکو چاہتا ہے دیتا ہے۔ ہریک جان پر وہ کھڑا ہے اسکے عمل مشاہدہ کر رہا ہے پھر ایک اور شعر باوا صاحب کا ہے۔ سُن من بھولے باورے گور کی چرنی لاگ ہر جپ نام دھائے توں جم ڈر پی دکھ بھاگ یعنی اے نادان دل مرشد کے قدم پر لگ جااللہ کے نام کا وظیفہ کر ملک الموت ڈر جائے گا اور