ابؔ آپ لوگ ذرا غور کر کے دیکھیں کہ یہ مضمون باواصاحب نے قرآن شریف کی اس آیت سے لیا ہے۔۱ یعنی کہہ کہ اگر
خدا کے کلموں کیلئے سمندر کو سیاہی بنایا جاوے تو سمندر ختم ہو جائے گا قبل اس کے جو خدا کے کلمے ختم ہوں اگرچہ کئی ایک سمندر اسی کام میں اور بھی خرچ ہو جاویں۔
پھر باوا صاحب اسی
شبد کے آخر میں کہتے ہیں۔
قیمت کنے نہ پائیا سب سن سن آکھن سو
یعنی خدا کی اصل حقیقت کا اندازہ کسی کو معلوم نہیں صرف سماعی باتوں پر مدار رہا مطلب یہ کہ ایمان کے طور پر خدا کو
مانا گیا مگر اصل کنہ اس کی کسی کو معلوم نہ ہوئی۔ یہ شعر درحقیقت اس آیت کا ترجمہ ہے۔
یعنی خدا کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا
تعالیٰ کی کنہ کوئی عقل دریافت نہیں کر سکتی پھر باوا صاحب ایک شبد میں گرنتھ میں فرماتے ہیں۔
پیر پیغمبر سالک سہدے اور شہید شیخ مشائخ قاضی ملا در درویش رسید
برکت تن کو اگلی
پڑھدے رہن درود
یعنی جس قدر پیر پیغمبر اور سالک اور شہید گذرے اور شیخ مشائخ اور قاضی ملا اور نیک درویش ہوئے ہیں ان میں سے انہیں کو برکت ملے گی جو جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ
علیہ و سلم پر درود بھیجتے ہیں۔ یہ اشارہ اس آیت کی طرف ہے۔
۳ ۴ یعنی اللہ اور تمام فرشتے اس کے اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اے وے لوگو جو ایمان دار ہو تم بھی اس پر درود اور سلام
بھیجو۔ اے نبی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے پیار کرے اور تمہارے گناہ بخش دیوے۔ اب ناظرین غور سے دیکھیں