وہ تمہاؔ رے کھوٹے اعمال ہرگز قبول نہیں کرے گا۔اور جنہوں نے کھوٹے کام کئے انہیں کاموں نے ان کے دل پر زنگار
چڑھا دیا۔ سو وہ خدا کو ہرگز نہیں دیکھیں گے۔ اب غور اور انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ باوا صاحب صریح صریح قرآنی آیات سے اقتباس کر رہے ہیں اور قرآنی عقیدہ کو بیان فرما رہے ہیں اگر ان کا
قرآن کی طرف رجوع نہیں تھا تو کیوں انہوں نے قرآنی تعلیم کو اپنا عقیدہ ٹھہرایا۔ دین میں داخل ہونا اور کس کو کہتے ہیں اسی کو تو کہتے ہیں کہ کسی دین کی تعلیموں کو سچ سمجھ کر انہیں کے
موافق اپنا اعتقاد ظاہر کرنا۔ پھر باوا نانک صاحب فرماتے ہیں۔
جیتا دیہیں تیتا ہوں کھاؤ
نانک ایک کہے ارداس
بیادر نہیں کے درجاؤ
جیوپنڈ سب تیرے پاس
یعنی جس قدر تو دیوے اسی قدر
ہم کھاتے ہیں دوسرا دروازہ نہیں جس پر جاویں نانک ایک ہی عرض کرتا ہے کہ روح اور جسم سب تیرے پاس ہیں یہ مضمون نانک صاحب نے ان آیات قرآنی سے لیا ہے۔۲ یعنی ہم نے تمہارے کھانے
پینے اور دوسری حاجات کی چیزیں تم میں تقسیم کر دی ہیں کسی کو تھوڑی اور کسی کو بہت دی ہیں اور بعض کا بعض سے مرتبہ زیادہ کر دیا ہے اور خدا تعالیٰ کے ملک سے جو زمین و آسمان ہے تم
باہر نہیں جا سکتے۔ جہاں جاؤ گے خدا کا غلبہ تمہارے ساتھ ہوگا ۔ب دیکھو باوا صاحب نے صریح ان آیتوں سے اپنا مضمون بنایا ہے اور یہ مضمون اواگون کے عقیدے سے بالکل مخالف ہے کیونکہ
اواگون والا یہ نہیں کہے گا کہ رزق کی کمی بیشی خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام عزت اور ذلت کو اپنے پہلے عملوں کی طرف منسوب کرے گا۔ اور روحوں کا خالق خدا تعالیٰ کو
کبھی نہ مانے گا ۔پھر باوانانک صاحب فرماتے ہیں۔
تیرا حکم نہ جاپے کتیرا لکھ نہ جانے کو جے سو شاعر میلئے تل نہ پوجاوے ہو
یعنی تیرے حکم کی تعداد کسی کو معلوم نہیں اگر سو شاعر جمع
کریں تو ایک تل بھر بھی پورا نہ کر سکیں