یہ تماؔ م مضمون ان مفصلہ ذیل قرآنی آیات میں ہے غور سے دیکھو اور وہ یہ ہیں۔
یعنی اے وے لوگو جو ایمان لائے کیا
تمہیں ایک سوداگری کی خبر دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے۔ یعنی یہ سوداگریاں جو تم کر رہے ہو یہ خساروں سے خالی نہیں اور ان میں آئے دن عذاب بھگتنا پڑتا ہے سو آؤ تمہیں وہ
سوداگری بتلادیں جس میں نفع ہی نفع ہے اور خسارہ کا احتمال نہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا اور اس کے بھیجے ہوئے پر ایمان لاؤ *اور اپنے مال اور جان کے ساتھ خدا کی راہ میں کوششیں کرو اگر
تمہیں سمجھ ہو تو یہی سوداگری تمہارے لئے بہتر ہے جس سے تمہارا روحانی مال بہت بڑھ جائے گا۔ اے ایمان والو خدا سے ڈرتے رہو اور ہریک تم میں سے دیکھتا رہے کہ میں نے اگلے جہان میں
کونسا مال بھیجا ہے اور اس خدا سے ڈرو جو خبیر اور علیم ہے اور تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے یعنی وہ خوب جاننے والا اور پرکھنے والا ہے اس لئے
خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جس کو
عربی زبان میں رسول کہتے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ خدا نہایت پوشیدہ اور وراء الورا ء اور نہاں در نہاں ہے اور اسکی ذات کے مشاہدہ کرنیوالے اسکے رسول ہیں جن کو وہ آپ تعلیم دیکر بھیجتا
ہے اور انسان اپنی ابتدائی حالت میں اس دقیق در دقیق ذات کو خودبخود اور محض اپنی آنکھوں کی قوت سے دیکھ نہیں سکتا ہاں اسکے رسول کے خوردبین کے ذریعہ سے دیکھ سکتا ہے غرض جس
شخص کو خدا نے اپنی معرفت سے آپ رنگین کر دیا ہے اس سچے گورو کے ذریعہ سے خداتعالیٰ کو طلب کرنا یہی سیدھی راہ ہے اور ایسے کامل گورو کا پیرو اس روشنی سے حصہ پالیتا ہے یہی
طریق ابتداء سے جاری ہے کہ جیسے انسان سے انسان پیدا ہوتا ہے ایسا ہی خدا کے حق جو بندے خدا کے کامل بندوں کے ذریعہ سے روحانی وجود پاتے ہیں اور یہ قدیم نظام الٰہی ہے۔ آریوں کے مذہب
میں یہ بھی ایک نقص ہے کہ وہ نور جو ایک سینہ سے دوسرے سینہ میں جاتا ہے اور رسول جو سچا گرو اور روحانی باپ ہے اسکا نور جو محبت کی نالی سے اسکے پیروؤں میں آتا ہے اس ضروری
تعلیم کا ذکر وید میں کچھ بھی نہیں بلکہ وید کے رسولوں کا پتہ ہی نہیں۔ منہ