پھرؔ باوا صاحب فرماتے ہیں۔ اک تل پیارا وسرے روگ وڈامن ماہین کیون درگہ پت پائے جان ہر وسے من ماہیں یعنی اگر ایک ذرہ محبوب فراموش ہو جائے تو میرا دل بہت بیمار ہو جاتا ہے اور اس درگاہ میں کیونکر عزت ملے اگر اللہ دل میں آباد نہ ہو۔ اور قرآن شریف میں ہے۔ یعنی تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ نیکوکار آدمی یعنی جو خدا سے دل لگاتے ہیں وہ آخرت میں نعمتوں میں ہوں گے اور تختوں پر بیٹھے ہوئے خدا تعالیٰ کو دیکھیں گے وہ عزت پانے والے بندے ہیں۔ اور جو یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا ہی ہوگا۔ یعنی جس کو اس دنیا میں خدا کا درشن حاصل ہے اس کو اس جہاں میں بھی درشن ہوگا اور جو شخص اس کو اس جگہ نہیں دیکھتا آخرت میں بھی اس عزت اور مرتبہ سے محروم ہوگا۔ اب دیکھو اس شعر کا تمام مضمون قرآن شریف ہی سے لیا گیا ہے اور اسلام کے عقیدہ کے موافق ہے اور ہندوؤں کے وید سے اس کا کچھ تعلق نہیں پس کیا ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ باوا صاحب ہریک امر میں اسلامی عقائد کے موافق بیان کرتے جاتے ہیں اور قرآن کے سرچشمہ سے ہریک نکتہ معرفت لیتے ہیں۔ اور پھر باوا صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ ونج کرو ونجاریو وکھر ولے ہو سمال تیسی دست و ساہئیے جیسی نبھے نال اگے ساہ سو جان ہے لیسی دست سمال جنہاں راس نہ سچ ہے کیوں تنہاں سکھ ہو کھوٹے ونج ونجئے من تن کھوٹا ہو یعنی اے بیوپاریو اسباب کو سنبھالو۔ ایسی چیز لو جو ہمراہ جائے آگے مالک علیم و خبیر ہے وہ دیکھ بھال کر اسباب لے گا جن کی متاع کھوٹی ہے ان کو آرام کیونکر ملے گا۔ کھوٹے بیوپار سے دل اور جسم کھوٹا ہوگا۔