قرآؔ ن شریف سے لیا ہے کیونکہ دوسری تمام قومیں اس سے غافل ہیں اور ان کے عقیدے اس کے برخلاف ہیں۔ پھر باواصاحب کا ایک شعر یہ ہے۔ کیتا اکھن آکھئے اکھن ٹوٹ نہ ہو منگن والے کیتڑی داتا ایکو سو جس کے جیا پران ہیں من وسّے سکھ ہو یعنی کس قدر کہیں کہنے کی انتہا نہیں۔ کس قدر مانگنے والے ہیں اور دینے والا ایک ہے جس نے روحوں اور جسموں کو پیدا کیا وہ دل میں آباد ہو جائے تو آرام ملے یہ شعر ان قرآنی آیتوں کا اقتباس ہے ۱؂ ۵؂ یعنی زمین پر کوئی بھی ایسا چلنے والا نہیں جس کے رزق کا خدا آپ متکفل نہ ہو وہی ایک سب کا رب ہے اور اس سے مانگنے والے تمام زمین و آسمان کے باشندے ہیں۔ جان کی قسم ہے اور اس ذات کی جس نے جان کو اپنی عبادت کے لئے ٹھیک ٹھیک بنایا کہ وہ شخص نجات پا گیا جس نے اپنی جان کو غیر کے خیال سے پاک کیا۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ جس نے اس محبوب کو اپنے اندر آباد کیا جیسا کہ باوا صاحب نے کہا حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو اندر میں خود آباد ہے صرف انسان کی طرف سے بوجہ التفات الی الغیر دوری ہے پس جس وقت غیر کی طرف سے التفات کو ہٹا لیا تو خود اپنے اندر نور الٰہی کو مشاہدہ کرلے گا خدا دور نہیں ہے کہ کوئی اس طرف جاوے یا وہ اس طرف آوے بلکہ انسان اپنے حجاب سے آپ ہی اس سے دور ہے پس خدا فرماتا ہے کہ جس نے آئینہ دل کو صاف کرلیا وہ دیکھ لے گا کہ خدا اس کے پاس ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی قریب تر ہیں۔ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ حبل الورید کے خون کے نکلنے سے انسان کی موت ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ سے دور پڑنے میں انسان کی موت ہے بلکہ اس سے زیادہ تر۔