کیؔ طرف سے ہوتا تو وہ اپنا نام ان شعروں میں شاعر نہ رکھتے پس جبکہ نانک صاحب کا یہ اپنا ہی کلام ہوا اور دوسری طرف ان کا یہ اقرار ہے کہ بغیر پیروی ست گور کے حکم یعنی خداتعالیٰ کی کلام کے کوئی انسان نجات نہیں پا سکتا۔ پس اب یہ سوال بالطبع ہوتا ہے کہ باوا صاحب نے پرمیشر کی رضا حاصل کرنے کیلئے کس کتاب الٰہی کی پیروی کی اور اپنے سکھوں کو کس کتاب الہامی کی ہدایت دی اس سوال کا جواب ہم اس رسالہ میں بخوبی دے چکے ہیں کہ باوا صاحب قرآن شریف کی پیروی کرتے رہے اور اسی کی پیروی کی انہوں نے نصیحت کی۔ اور اگر کوئی انسان ان تمام باتوں سے قطع نظر کر کے باوا صاحب کے ان عقائد پر نظر غور ڈالے جو گرنتھ میں ان کی طرف سے منقول ہیں اور ان کے اشعار میں پائے جاتے ہیں تو بہت جلد یقین کر لے گا کہ ان عقیدوں کا پتہ بجز اسلام کے اور کسی دین میں نہیں ملتا۔ پس یہ بھی ایک پختہ دلیل اس بات پر ہے کہ باوا صاحب نے اسلامی عقائد ہی قبول کئے اور انہیں کو اپنا عقیدہ ٹھہرا لیا تھا پھر ہم ایسے عقیدہ والے کو اگر مسلمان نہ کہیں تو ہمیں بتلاؤ کہ اور کس مذہب کی طرف اس کو منسوب کریں۔ چنانچہ اس وقت چند شعر باواصاحب کے بطور نمونہ کے اس جگہ لکھے جاتے ہیں ان کو سکھ صاحب غور سے پڑھیں کہ یہ عقیدے کس مذہب کے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ شعر ہے۔ ہربن جیو جل بل جاؤ میں اپنا گور پوچھ دیکھا اور ناہیں تھاؤ یعنی اے جاندارو خدا کے سوا جل جاؤ گے میں اپنے مرشد سے پوچھ لیا اور کوئی جگہ نہیں۔ اب واضح ہو کہ یہ اس آیت قرآنی کا ترجمہ ہے۱؂ یعنی جو لوگ نافرمان اور بدکار ہیں اور نفس اور ہوا کے تابع ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں جلیں گے اور اسی کے مطابق ایک دوسری آیت ہے اور وہ یہ ہے۔ یعنی اپنے رب کو بہت ہی یاد کرو تا دوزخ کی آگ سے نجات پاؤ۔ اب ظاہر ہے کہ نافرمانی کی حالت میں