اسؔ لئے اکثر جناب الٰہی میں رو رو کر گذشتہ زندگی کے بارہ میں بہت عذر معذرت کرتے تھے اور اسی آخری حصہ عمر
میں انہوں نے دو حج کئے اور دو برس تک مکہ اور مدینہ میں رہے اور صلحائے اسلام کے روضوں پر چلے گئے اور پرانی زندگی کا بالکل چولہ اتار دیا اور نئی زندگی کا نشان دہ چولہ پہن لیا۔ جس کی
ہریک طرف میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا اب تک موجود ہے اور ان کا خاتمہ بہت عمدہ ہوا اور مجمع کثیر کے ساتھ مسلمانوں نے ان پر نماز جنازہ پڑھی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
سکھ
صاحبان اس بات پر بھی غور کریں کہ باوانانک صاحب کلام الٰہی کے قائل تھے اور جابجا گرنتھ میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ خدا کی ہدایت اور خدا کی کلام کے سوا کوئی شخص اس کی رہ کو نہیں پا
سکتا۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔
جیہی توں مت دے تیہی کوئی پاوے تدھ آپے بھاوے تیویں چلاوے
یعنی جسے تو نصیحت دے ویسے کوئی تجھے پا سکتا ہے تجھے جو اچھا لگا وہی کام تو چلاتا ہے۔
اور پھر فرماتے ہیں
حکمے آیا حکم نہ بوجھے حکم سوارن ہارا
یعنی انسان حکم سے آیا اور حکم نہیں پہچانتا۔ اور خدا کے حکم سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور ایسے شعر صدہا ہیں۔ اور
کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے الہام اور کلام کی پیروی کرنی چاہئے تب راہ ملے گی لیکن باوا صاحب نے کسی جگہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ گرنتھ کے
اشعار جو میرے منہ سے نکلتے ہیں الہامی ہیں یا خدا کا کلام ہے۔ بلکہ اپنا نام شاعر رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔ دیکھو صفحہ۹۶۳
ساس ماس سب جیو تمہارا توں میں کھرا پیارا
نانک
شاعراینو کہت ہے سچے پروردگارا
یعنی سانس اور گوشت اور جان تمہاری طرف سے ہیں اور تو مجھے بہت پیارا ہے۔ نانک شاعر اسی طرح کہتا ہے اے سچے پروردگار۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ
کلام نانک صاحب کا خدا تعالیٰ