آگؔ میں جلنا ہندوؤں کا مذہب نہیں بلکہ ان کا مذہب تو اواگون اور جونوں میں پڑنا ہے اور عیسائیوں کے مذہب میں بھی یہ تعلیم
نہیں کہ خدا سے سچی محبت کر کے انسان دوزخ سے بچ جاتا ہے کیونکہ ان کے مذہب میں مدار نجات حضرت مسیح کی خودکشی پر ایمان لانا ہے سو یہ محض قرآنی تعلیم ہے جو باوا صاحب نے بیان
کی۔ قرآن ہی یہ تعلیم دیتا ہے کہ ۱ یعنی جہنم کی آگ سے وہ بچے گا جو اپنے تئیں نفس پرستی اور تمام نافرمانیوں سے پاک کرے گا ۔اور پھر ایک اور شعر باوا صاحب کا ہے اور وہ یہ ہے۔
کیتیان
تیری قدرتیں کی وڈی تیری دات کیتی تیرے جیا جنت صفت کریں دن رات
یعنی کس قدر تیری قدرتیں ہیں اور کس قدر تیری بخشش اور عطا ہے اور کس قدر تیری مخلوق ارواح اور اجسام ہیں جو دن
رات تیری تعریف کرتے ہیں یہ شعر بھی قرآن شریف کی آیات کا ترجمہ ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
یعنی خدا وہ قادر ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں وہ نہایت
بزرگ اور صاحب عظمت ہے اور اس کی نعمت اور بخشش اس قدر ہے کہ اگر تم اس کو گننا چاہو تو یہ تمہاری طاقت سے باہر ہے اور کوئی چیز نہیں جو خدا کی حمد و ثناء میں مشغول نہیں ہریک چیز
اس کے ذکر میں لگی ہوئی ہے۔ اب دیکھو باوا صاحب کا یہ شعر انہیں آیات کا ترجمہ ہے ۔لیکن یہ شعر وید کے عقیدہ کے صریح برخلاف ہے۔ کیونکہ وید کی رو سے پرمیشر کی عطا اور بخشش کچھ
بھی چیز نہیں سب کچھ اپنے عملوں کا پھل ہے اور وید اس بات کا بھی قائل نہیں کہ آگ اور پانی اور ہوا وغیرہ خدا تعالیٰ کی صفت و ثنائیں کر رہے ہیں۔ بلکہ وید تو ان چیزوں کو خود پرمیشر ہی قرار
دیتا ہے اور اگر یہ کہو کہ یہ نام اگرچہ مخلوق کے ہیں مگر پرمیشر کے بھی یہ نام ہیں تو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ جیسا کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ چاند سورج ستارے پانی آگ مٹی ہوا سب خدا کی
مخلوق ہے اور اسی کی تعریف کر رہے ہیں اور ان چیزوں