بھلے مانسوں کے حق میں کیا لکھیں جو ایسی شرتیوں پر ایمان لاکر پھر اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام کی شادیاں اولاد کی غرض سے نہیں بلکہ شہوت رانی کی غرض سے ہیں افسوس خود تو یہ جائز رکھیں کہ اپنے جیتےؔ جی عین نکاح کی حالت میں اپنی عورتوں کا جوش شہوت فرو کرنے کے لئے ان کو دوسروں سے ہم بستر کراویں اور ایسی ناپاک دیوثی سے ذرہ بھی شرم نہ کریں۔ اور عورتیں بھی ایسی بھلی مانس ہوں کہ حمل کے دنوں میں بھی صبر نہ کرسکیں اور زندہ موجود خاوند کو چھوڑ کر دوسروں سے نیوگ کراتی پھریں تا اپنے شہوت کے جوش کو پورا کریں۔ اور پھر اسلام کے نکاح پر معترض ہوں۔ اے صاحبان آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام میں محض شہوت رانی کی غرض سے نکاح کیا جاتا ہے ہمیں قرآن نے تو یہ تعلیم دی ہے کہ پرہیز گار رہنے کی غرض سے نکاح کرو۔ اور اولاد صالح طلب کرنے کے لئے دعا کرو جیسا کہ وہ اپنی پاک کلام میں فرماتا ہے ۱؂ الجزو نمبر۵۔ یعنی چاہئے کہ تمہارا نکاح اس نیت سے ہو کہ تا تم تقویٰ اور پرہیزگاری کے قلعہ میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ حیوانات کی طرح محض نطفہ نکالنا ہی تمہارا مطلب ہو*۔ اور محصنین کے لفظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو شادی نہیں کرتا وہ نہ صرف روحانی آفات میں گرتا ہے بلکہ جسمانی آفات میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے سو قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ شادی کے تین فائدے ہیں۔ ایک عفت اور پرہیزگاری۔ دوسری حفظ صحت۔ تیسری اولاد۔ اور پھر ایک اور جگہ فرماتا ہے ۲؂ ا لجزو نمبر ۱۸ سورۃالنور۔یعنی جو لوگ نکاح کی طاقت نہ رکھیں جو پرہیزگار رہنے کا اصل ذریعہ ہے تو ان کو چاہئے کہ اور تدبیروں سے طلب عفت کریں چنانچہ بخاری اور مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم * حاشیہ۔ واضح ہو کہ احصان کا لفظ حصنسے مشتق ہے اور حصن قلعہ کو کہتے ہیں اور نکاح کرنے کا نام احصان اس واسطے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے انسان عفت کے قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے اور بدکاری اور بدنظری سے بچ سکتا ہے اور نیز اولاد ہو کر خاندان بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور جسم بھی بے اعتدالی سے بچا رہتا ہے پس گویا نکاح ہریک پہلو سے قلعہ کا حکم رکھتا ہے۔ منہ