کی تھی اسی طرح ڈاکٹر میٹن صاحب نے بیان کیا ہے کہ ایک حمل پر تین مہینے کے وقفہ سے حمل ٹھہر گیا اور دو لڑکے پیدا ہوئے اور انہوں نے عمر پائی اور کوئی ان میں سے نہ مرا۔ اس جگہ بظاہر آریہ لوگ اپنے وید پر فخر کر سکتے ہیں کہ یہ بھی ایک ودّیا ہے کہ وید نے یہ بات کہہ کر حاملہ عورت دوسرے سے نیوگ کر کے بچہ لیوے۔ یہ جتا دیا کہ حمل پر حمل ہو سکتا ہے لیکن غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس سے کوئی بھی ودیا ثابت نہیں ہوتی کیونکہ جبکہ وید کے زمانہ اور بعد میں بھی ہندوؤں میں یہ عام عادت رہی ہے کہ خاوند اپنی عورتوں کو نیوگ کے لئے دوسروں کی طرف بھیجتے رہے ہیں پس جبکہ لاکھوں بلکہ کروڑہا عورتیں باوجود زندہ ہونے خاوندوں کے اور باوجود اس کے کہ انہیں کے نکاح میں تھیں دوسروں سے ہم بستر ہوتی رہیں تو اس کثرت کی کارروائیوں سے ضرور تھا کہ خودبخود ایسے تجربے حاصل ہو جاتے۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ طوائف کے گروہ کو بھی بعض بدکاری کے امور میں ایسے تجارب حاصل ہو جاتے ہیں کہ بیچاری پردہ نشیں عورتیں ان سے بے خبر ہوتی ہیں تو کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ طوائف بھی ودّیا کا سرچشمہ ہیں۔ ہاں یہ اشارہ نہایت پاکیزگی سے قرآن شریف میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱؂ الجزو نمبر ۲۸ یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔ اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسب ضائع ہوگی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ پنڈت صاحب کی اس تحریر سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیوگ صرف اولاد کے لئے نہیں بلکہ جوش شہوت کے فرو کرنے کے لئے بھی نیوگ ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیونکر یہ جائز ہوتا کہ ایک مرد باوجودیکہ اس کی عورت حاملہ ہے پھر غیر عورتوں سے نیوگ کرتا پھرے اسی طرح صاف طور پر لکھا ہے کہ اگر ایک ہندو بوجہ کسی بیماری وغیرہ کے اپنی عورت کی پورے پورے طور پر تسلی نہ کر سکے تو وید آگیا یہ ہے کہ اپنی عورت سے نیوگ کراوے مگر پھر بھی یہ شرط ہے کہ اس وقت تک نیوگ جاری رہے جب تک کہ نیوگ میں سے ہی اولاد ہو جاوے۔ اب ہم ان