فرماتے ہیں کہ جو نکاح کرنے پر قادر نہ ہو اس کے لئے پرہیزگار رہنے کے لئے یہ تدبیر ہے کہ وہ روزے رکھا کرے اور
حدیث یہ ہے یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءَ ۃَ فلیتزوج فانہ اغض للبصر و احصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانّہ‘ لہ وجاء صحیح مسلم و بخاری یعنے اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم
میں سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو چاہے۔ کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے ورنہ روزہ رکھو کہ وہ خصّی کر دیتا
ہے۔
اب ان آیات اور حدیث اور بہت سی اور آیات سے ثابت ہے کہ نکاح سے شہوت رانی غرض نہیں بلکہ بدخیالات اور بدنظری اور بدکاری سے اپنے تئیں بچانا اور نیز حفظ صحت بھی غرض ہے
اور پھر نکاحؔ سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے ۱ ۔یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہمیں اپنی بیویوں
کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیشرو ہوں۔
پیارے ناظرین!جو کچھ ہم نے اشتہار میں نیوگ
کے بارے میں لکھا تھا اسی کی تائید میں ہم نے بھومکا اور دیانند کے ویدبہاش کو نقل کر دیا ہے۔ اب ہم ان بدزبانوں سے پوچھتے ہیں جنہوں نے ہم پر بہتان کا الزام لگایا کہ ہم نے وید اور پنڈت دیانند کی
ستیارتھ پرکاش کا حوالہ دینے میں کونسی خیانت کی ہے یا کس غلط بیانی کے ہم مرتکب ہوئے اور اس مسئلہ کی کس شکل اور اصلیت کو ہم نے بگاڑ دیا ہے خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو سچ کہے
اور عمدًا جھوٹ نہ بولے اور ایسے شخص پر اس کی *** ہے جو محض قومی بردہ اور بخل کی وجہ سے یا باطل کی محبت سے سچ کو چھوڑ دیتا اور جھوٹ کے سرسبز کرنے کے لئے زور لگاتا
ہے مذہب کی جڑ راستی اور راستی کی محبت ہے مگر پلید روحیں شطرنج بازوں کی طرح صرف چال کے فکر میں رہتی ہیں اور دھرم اور دھرم کے نیک نتیجوں کی کچھ پروا نہیں رکھتیں۔